IQNA

9:03 - October 12, 2020
خبر کا کوڈ: 3508340
تہران(ایکنا) یورپ کے مسلمانوں کے حوالے سے بیان پر علما کونسل نے رد عمل ظاہر کردیا

مصر کے معروف مفتی «شوقی علام» نے یورپ میں مسلمانوں کی دوسری اور تیسری نسل کے حوالے سے بیان پر عالمی علما کونسل کے جنرل سیکریٹری «علی محی‌الدین قره‌داغی» نے انکو تنقید کا نشانہ بنایا۔

 

قره‌داغی نے: «اے قابض مفتی: فتوے سے قبل تقوی کی ضرورت ہے» کے عنوان سے فیس بک پر لکھا پے: مفتی مصر کے میڈیا پیغام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

 

انکا کہنا تھا: مصری مفتی کہتا ہے کہ یورپ میں ۵۰ فیصد مسلمانوں کے بچے داعش سے وابستہ ہے۔

 

قره‌‌داغی لکھتا ہے: یہ نامعقول بیان مصر کے مذہبی اداروں کی بے نظمی کی مثال ہے جو صرف حاکمیت کے لیے بازیچہ بنا ہوا ہے اور یہ بیان غیرمعقول اور نامناسب ہے۔

 

انہوں نے مصری مفتی سے سوال پوچھا: پچاس فیصد کہاں سے آیا ؟ کیوں مغربی حکومتوں کو مسلمانوں سے ڈرانا چاہتے ہو؟ کیا واقعا جو افراد داعش سے وابستہ ہوگئے ہیں وہ ۵۰ یورپ کی دوسری اور تیسری نسل کے پچاس فیصد ہے؟

 

وہ لکھتا ہے: ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کی مدد کریں نہ کہ اسلام مخالفوں کے۔

 

قابل ذکر ہے کہ مفتی «شوقی علام»، نے سال ۲۰۱۶ کے ایک سروے کا حوالہ دیتے کہا کہ پچاس فیصد نئی نسل یورپ میں داعش سے وابستہ ہوچکے ہیں۔

 

مصری مفتی نے اس سروے کا حوالہ نہیں دیا ہے اور کہا کہ یورپ میں لوگ داعش کی سمت مائل ہورہے ہیں۔/

3928686

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: