IQNA

7:50 - March 18, 2021
خبر کا کوڈ: 3509043
مشہور عالم دین انجینئر محمد علی مرزا پنجاب کے ضلع جہلم کی ایک دینی اکیڈمی میں قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے۔

 اتوار کی دوپہر کو ایک مشتبہ شخص نے مبینہ طور پر انجینئر محمد علی مرزا پر تیز دھار آلے سے حملہ کیا اور پولیس نے مذکورہ شخص کو حراست میں لے کر اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

 

جہلم شہر کے مشین محلہ کے رہائشی محمد علی مرزا اپنے ریکارڈ و لائیو لیکچرز اور تقریروں کی ویڈیوز اپنے سوشل میڈیا پیجز پر اپلوڈ کرتے رہتے ہیں اور ان کے یوٹیوب چینل پر فالوورز کی تعداد 46 لاکھ ہے۔

 

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324 (اقدام قتل) کے تحت محمد علی مرزا کی شکایت پر درج واقعے کی ایف آئی آر میں عالم دین نے بتایا کہ انہوں نے ایک عمارت میں واقع ریسرچ اکیڈمی میں ہفتہ وار درس دیا۔

 

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اتوار کی سہ پہر محمد علی مرزا کی جانب سے لیکچر دینے کے بعد ایک شخص قتل کی نیت سے تیز دھار آلا لے کر ان کی جانب بڑھا، پولیس ترجمان کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب مرزا لیکچر کے بعد تصاویر کھینچوا رہے تھے۔

 

مرزا نے اپنی شکایت میں کہا کہ اگرچہ حملہ آور ان کی گردن پر حملہ کرنا چاہتا تھا لیکن وہ تیزی سے ایک طرف ہٹ گئے اور تیز دھار ہتھیار ان کے کندھے پر لگا، ایف آئی آر کے مطابق حملہ آور نے دوبارہ عالم دین پر حملے کی کوشش کی لیکن ہال میں موجود دو افراد نے اسے پکڑ لیا۔

 

سٹی پولیس اسٹیشن کے پولیس ترجمان چوہدری محمد عمران نے بتایا کہ اس واقعے میں انجینئر محمد علی مرزا کو معمولی چوٹ آئی ہے اور ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

 

حملہ آور کی شناخت لاہور کے 21 سالہ رہائشی کے طور پر کی گئی ہے جو 'قتل کے ارادے سے' جہلم آیا تھا۔

 

پولیس اہلکار نے بتایا کہ موقع سے گرفتار ہونے کے بعد مشتبہ شخص نے مرزا پر 'لوگوں کو دھوکہ دینے' کا الزام عائد کیا اور ان کی تعلیمات پر سخت لعن طعن کی۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ سال مئی میں جہلم پولیس نے توہین آمیز اور اشتعال انگیز بیانات دینے کے الزام میں محمد علی مرزا کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا تھا، ایک مقامی عدالت کی جانب سے ضمانت کی درخواست منظور ہونے کے بعد انہیں ایک دن بعد ہی رہا کردیا گیا تھا۔

1156022

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: