
ایکنا نیوز کے مطابق انقلاب اسلامی ایران کے بانی حضرت خمینی کی بتیسویں برسی کی مناسبت سے امام خمینی(ره) کی نظر میں اتحاد اسلامی اور اسکے فواید کے موضوع پر علمی کانفرنس جمعرات کو خانہ فرھنگ ایران کوئٹہ میں منعقد ہوئی جسمیں ایرانی قونصل جنرل حسن درویش وند، خانہ فرھنگ ایران کے ڈائریکٹر سید حسین تقی زادہ واقفی ، جمعیت علما کے اسلام کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات و بلدیات مولانا سید حافظ حسین شہرودی، معروف روحانی اور علمی و ادبی دانشور پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی مجلس دانش و فکر کے چیرمین مولانا عبدل متین اخوندزادہ، معروف کالم نگار امان اللہ شادیزئی، امام جمعہ کوئٹہ سید ہاشم موسوی، جامعہ امام صادق کے سربراہ حجت الاسلام جمعہ اسدی، مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ مقصود علی ڈومکی، جماعت اہل سنت کے رہنما پیر سید حبیب اللہ شاہ چشتی، حجت الاسلام وجدانی، حجت الاسلام حمیدی سیمت دیگر معروف علما اور دیگر طبقوں سے تعلق رکھنے والے اہم شخصیات شریک تھیں۔

کانفرنس کا آغاز استاد القراء اور معروف اہل سنت کے قاری محمد اسماعیل کی تلاوت کلام سے ہوا جسکے بعد معروف نعت خواں اعظم چشتی نے شان اہل بیت میں منقبت اور نعت بحضور سرور کونین پیش کیا۔ مقررین نے خطاب میں حضرت امام خمینی کی شخصیت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی اور انہیں وحدت اسلامی کا داعی اور علمبردار قرار دیا اور انکی خدمات کو سراہا۔

خانہ فرھنگ کے ڈائریکٹر نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور اسلامی دنیا میں حضرت امام کی وحدت کی کاوشوں پر خطاب کیا۔

انکا کہنا تھا کہ امام نے سیرت رسول و انبیا پر عمل کرتے ہوئے امت کو آگاہ کیا کہ دشمن امت میں اختلاف سے انہیں کمزور کرنے کے درپے ہیں لہذا حضرت امام نے قرآنی تعلیمات کے گرد امت کو یکجا ہونے کا پیغام دیا اور اسی بنیاد پر انہوں نے بڑی طاقتوں کو چیلنج کیا۔

معروف کالم نگار امان اللہ شادیزی نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ عجم سے حضرت امام خمینی اٹھتے ہیں اور دنیا اسلام کو وحدت اور بیداری کا پیغام سناتے ہیں مگر عرب حکام الٹا عمل کرتے ہیں اور وحدت میں رخنہ ڈالتے نظر آتے ہیں۔

مجلس وحدت کے علامہ ڈومکی نے امام کو عظیم مصلح قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام نے شیعہ سنی کو استکبار کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا درس دیا اور انہیں کے افکار کے نتیجے میں آج یمن سے لیکر فلسطین تک شیعہ اور سنی ظالموں سے برسرپیکار نظر آتے ہیں مگر افسوس کہ اسلامی فوجی اتحاد ٹرمپ کے ساتھ رقص شمشیر میں ناچتے ہوئے تماشائی بنتے ہیں اور فلسطین و کشمیر پر مذمت تک کی جرات سے قاصر نظر آتے ہیں۔

جمعیت علما اسلام کے رہنما اور سابق وزیر بلدیات نے امام خمینی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا کو اتحاد کی اشد ضرورت ہے اور وقت کے یزیدوں کے مقابلے بلاتفریق نسل و فرقہ علما کو قیام کرنے کی ضرورت ہے۔

کانفرنس سے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی نے کہا کہ اسلامی بیداری اور وحدت کے حوالے سے خوبصورت بیانات اور نظریے موجود ہیں تاہم امام نے ان نکات اور فارمولوں پر عمل کیا اور انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔

ایرانی قونصل جنرل حسن درویش وند نے خطاب میں امام خمینی کو مختلف خوبیوں سے مزین اسلامی مصلح قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عظیم اسلامی حاکم، عادل ترین رہنما، انقلابی مفکر، دانا عارف، زاھد اور باتقوی مجاہد تھے جنہوں نے اسلامی اور جمہوریت کو یکجا کرکے مغربی الزامات کی نفی کردی۔

انکا کہنا تھا کہ امام نے نہ شرقی نہ غربی کے نعرے کے ساتھ خدا پر توکل اور عوام کی مدد سے ایک مثالی اسلامی ریاست تشکیل دی اور انکا یہ عظیم کارنامہ شمار ہوتا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ امام نے قدس کے مسئلے کو اجاگر کرکے امت کو بیدار کیا اور انکے افکار پر عمل کرتے ہوئے مجاہدین نے ثابت کیا کہ اسرائیل مکڑی کے جالے سے بھی کمزور تر ہے۔

امام خمینی کی بتیسویں برسی کے حوالے سے مذکورہ کانفرنس میں مدرسہ فاطمہ زہرا کی بچیوں اور دارالقرآن قدس رضوی کے بچون نے امام خمینی کی شان میں ترانہ پیش کیا۔

کانفرنس کے اختتام پر پرتکلف عشائیے سے مہمانوں کی پذیرائی کی گیی۔/