
ایکنا رپورٹ کے مطابق اسلامی ریڈیو ٹیلی ویژن الاینس کے جنرل سیکریٹری محمدعلی کریمیان نے «عدالت اور آزادی بیان میڈیا» کے عنوان سے منعقدہ دسویں اجلاس میں کہا: کورونا کی وجہ سے گذشتہ دو سال سے اجلاس نہیں ہوسکا اور اب اجلاس میڈیا آزادی و عدالت کے عنوان سے منعقد کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا: آزادی بیان ہمارا موٹو ہے تاکہ دنیا میں ہر کوئی آزادی سے بات کرسکے اور کسی خاص گروپ کے ہاتھوں میڈیا کو محدود نہیں ہونا چاہیے
کریمیان کا کہنا تھا کہ پاکیزہ پروڈکٹس پیش کرنے والے چینلز پر پابندی انسانیت کے حق میں ظلم ہے۔
نعرہ آزادی بیان ایک استعماری حربہ
انکا کہنا تھا کہ آزادی بیان کی باتیں کرنے والے صرف دعوی کرتے ہیں تاکہ عوامی افکار کو گمراہ کیا جاسکے لیکن جب انکے حوالے سے حقایق بیان کیے جاتے ہیں تو انکا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔
انہوں نے مغرب کی دوغلی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم معصوم بچوں کے قاتل رژیم کے مقابلے میں خاموش نہیں رہ سکتے فلسطین و یمن یا افغانستان میں مظلوموں پر چھپ کیسے رہا جائے، شام و غزہ میں امریکی و اسرائیلی مظالم کیسے بیان نہ کیا جائے۔
اسلامی جمہوریہ ایران ٹیلی ویژن کے سربراہ عبدالعلی علی عسگری نے کہا کہ ہم میڈیا جنگ کے دور میں رہ رہے ہیں اور ان حالات میں اس الاینس کی تشکیل ضروری تھی تاکہ عالمی استعماری محاز کے مقابلے میں حق کا محاز قایم کیا جاسکے اور حقیقت کو پیش کرنے کی وجہ سے سالم چینلز پر پابندی لگائی گیی ہے۔
امریکی زوال اور استقامتی محاز کی بڑھتی طاقت
انکا کہنا تھا کہ امریکہ آزادی بیان کا دعوی کرتا ہے تاہم ان چینلز پر پابندی سے انکی حقیقت مزید واضح ہوگیی ہے۔
علی عسگری کا کہنا تھا: امریکہ اور انکے اتحادی روبہ زوال ہیں اور استقامتی محاز کی طاقت بڑھتی جارہی ہے اور ظالمانہ پابندیوں کے باوجود امریکی زوال کو دنیا دیکھ رہی ہے۔
مغرب متاثر اسلامی چینلز کو انتباہ
عراق کےالغدیر سیٹلائٹ چینل کے ڈائریکٹر مضر بکاء نےکہا کہ اسلامی چینلز نے مسلم جوانوں پر اعتماد کرتے ہوئے یمن، عراق، شام، فلسطین و لبنان میں مظلوموں کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض مغرب متاثر عربی چینلز جو امریکی ایما پر کام کرتے ہیں اپنی ملتوں کے لیے کسی حق کا قایل نہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اسلامی ریڈیو ٹیلی ویژن الاینس کا دسواں اجلا تہران، بغداد، بیروت، غزہ، کابل، استنبول اور صنعاء میں بیکوقت منعقد کیا گیا۔/