لاہور ہائیکورٹ کا کالعدم ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کی فوری رہائی کا حکم

IQNA

لاہور ہائیکورٹ کا کالعدم ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کی فوری رہائی کا حکم

9:38 - July 09, 2021
خبر کا کوڈ: 3509753
نظرثانی بورڈ نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری سے متعلق تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہوں تو فوری طور پر رہا کردیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں تین رکنی نظر ثانی بورڈ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ سرکاری وکیل کے مطابق حافظ سعد رضوی عوام کو ہراساں کرنے اور حکومت کے خلاف اقدامات میں ملوث ہیں۔

سرکاری وکیل کے حوالے سے فیصلے میں کہا گیا کہ امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس برانچ کی ہدایت پر سعد رضوی کو نظر بند کیا گیا اور جس دن ان کو حراست میں لیا گیا، اسے پہلے نہ کوئی پولیس اہلکار شہید اور نہ ہی زخمی ہوا تھا۔

عدالت کے نظر ثانی بورڈ نے کہا کہ سعد رضوی حراست کے دوران اپنے کارکنوں سے رابطے میں نہیں تھے جبکہ ان کو حراست میں لینے سے قبل حالات بھی خراب نہیں تھے۔

فیصلے کے مطابق حکومت پنجاب نے کیس کے حوالے سے حقائق چھپائے کیونکہ پولیس اہلکاروں کے جاں بحق یا زخمی ہونے کی بات کی گئی لیکن ان دنوں میں ٹی ایل پی کے کارکنوں یا جاں بحق شہریوں کی تعداد کا حوالہ نہیں دیا گیا۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت نے حالات خراب ہونے کی ایک طرف کی تصویر پیش کی ہے، جس سے حکومت کی بدنیتی عیاں ہے۔

عدالت نے کہا کہ ماضی میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی دھرنے دیے لیکن ان پابندی نہیں لگی اور نہ ہی ان کے سربراہان کو نظر بند کیا گیا۔

تفصیلی فیصلے میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ ماضی میں پی ٹی آئی کے سربراہ اور اراکین نے 120 دن دھرنا دیا، کیا ان کی نظر بندی ہوئی لیکن حکومت کے وکیل نظر بندی کے حوالے سے کوئی دستاویز پیش نہیں کر سکے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ نظر ثانی بورڈ سمجھنے سے قاصر ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے حالانکہ سرکاری وکیل کے مطابق سعد رضوی نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا اور حکومت کو ڈکٹیٹ نہیں کیا جا سکتا۔

سعد حسین رضوی کو 12 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے حامیوں کو قانون ہاتھ میں لینے کے لیے اکسایا تھا کیونکہ ان کے بقول حکومت فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ چکی ہے۔

 

اس سے قبل فرانس میں حضور نبی اکرمﷺ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد تحریک لبیک پاکستان حکومت پر فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی کیونکہ فرانسیسی صدر کی طرف سے ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی حمایت کی گئی تھی۔

1163738

نظرات بینندگان
captcha