
رپورٹ کے مطابق سعودی میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے سخت قوانین میں رعایت دیتے ہوئے نئے حکم میں کہا ہے کہ نماز کے اوقات میں جبری دکانوں کو بند نہیں کیا جاسکتا اور لوگ دکانوں کو کھلا رکھ سکتے ہیں۔
مذکورہ فیصلہ سعودی چیمبر آف کامرس کے توسط سے لیا گیا ہے جس سے نماز کے وقت دکان بند کرنے کا دسیوں سال پرانا قانون معطل ہوچکا ہے۔
سعودی چیمبر آف کامرس کے مطابق دکانوں پر رش سے بچنے، گاہکوں کے انتظار اور جمگٹے سے بچنے اور کورونا ایس او پیز کے تحت جبرا دکان بند کرنے کے قانون کو تبدیل کردیا گیا ہے۔
روزنامہ عکاظ کے مطابق سعودی ولی عھد محمد بن سلمان کی اصلاحات کے تحت مذکورہ اقدام اٹھایا جارہا ہے جس کا مقصد سعودی اقتصاد کو تیل سے جدا کرانا ہے۔
تاہم کورونا وایرس کے آغاز سے مختلف میڈیکل، پیڑول پمپوں اور اداروں کو جو تیس منٹ کے لیے بند کرایا جاتا تھا انکو مستثنی کردیا گیا تھا۔
سعودی عرب واحد ملک ہے جہاں یہ قانون لاگو تھا اور چند سال پہلے تک سعودی مذہبی اسپشل فورس اس قانون کی پاسداری اور عملدرآمد پر مامور تھی۔/