
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق محرم الحرام کی مناسبت سے خانہ فرھنگ ایران پشاور میں ادبی انجمن کاروان حوا اور پختون ادبی انجمن شعبہ خواتین کے تعاون سے شب عاشور محفل مشاعرہ منعقد کی گیی۔
محفل مشاعرہ قیام امام عالی مقام، عاشورا کے پیغام کو عام کرنے کے حوالے سے منعقد کی گیی جسمیں مختلف زبانوں اردو، فارسی، پشتو، پنجابی اور انگریزی میں شعراء نے کلام پیش کیا۔
محفل مشاعرہ میں خانہ فرھنگ ایران کے سربراہ مھران اسکندریان، ایرانی قونصل جنرل حسین ملکی، کاروان حوا ادبی انجمن کی بشری فرخ، مصنف اور شاعر پروفیسر ناصر علی سید، معروف پاکستانی شاعر، ڈاکٹر اعجاز خٹک
گندھارا یونیورسٹی کے سربراہ عباد حسن خٹک، سابق ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخواہ ڈاکٹر اسیرمنگل سمیت دیگر امور شعراء اور ادیب موجود تھے۔
نامور شعرا میں حمیرا اسلم، سید شهزاد بادشاه، سمینه قادر، انورزیب شاهین خان خیل، اختر سیماب اور سلیم بنگش اسلام آباد، چارسدہ، کوہاٹ، مردان، صوابی سے شریک تھے۔
خانه فرهنگ ایران پیشاور میں منعقدہ محفل میں شعرانے امام عالی مقام سے عقیدت کا اظھار کیا اور غم کے ماحول میں امام کے مصایب کو بھی کلام میں پیش کیا گیا۔
پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول اسلام (ص) سے ہوا جسکے بعد حضرت امام حسین (ع) کی شان میں شعراء نے عقیدت کا اظھار کرتے ہوئے انکی بہادری اور اصحاب اباعبدالله الحسین(ع)اور حضرت زینب (س) کی فداکاریوں کو خراج پیش کیا۔
خانہ فرھنگ کے سربراہ مهران اسکندریان نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا: عاشورا کے حوالے سے بات کرنا بہت مشکل ہے اور اس عظیم واقعے کو درست پیش کرنے کے حوالے سے شعراء پر سنگین ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
انہوں نے «ما رایت الا جمیلا» کاجملہ جو حضرت زینب (س) نے دربار یزید میں کہا تھا کے حوالے سے کہا کہ
صبر و استقامت کی پیکر ام المصائب حضرت زینب (س) نے تا ابد خواتین کے لیے مثال قائم کردی۔
شهید عارف حسین الحسینی پیشاور مدرسے کے علامه عابد حسین شاکری نے محفل مشاعرہ کے انعقاد پر خانہ فرھنگ پشاور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد سے عاشورا کی ثقافت کی ترویج ہوتی ہے۔/





