
اس کانفرنس کا ایجنڈے کیا ہوگا؟
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ این ایس اے کے اجلاس میں سرحد پار دہشت گردی کے خطرے، دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، سیاسی عدم استحکام سے لے کر انتہا پسندی کے پھیلاؤ اور افغانستان سے بنیاد پرست نظریات جیسے مسائل پر بات کی جائے گی۔ اگست کے وسط میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہندوستان کو سکیورٹی خدشات لاحق ہیں۔ کانفرنس کے اہم ایجنڈے میں یہ موضوعات شامل ہیں:
ہندوستان، افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر واپسی کے بعد سے ہی افغانستان اور وسطی ایشیا سے رابطے کے منصوبوں میں شامل رہا ہے۔ جس میں ایران کا چابہار بندرگاہ منصوبہ Chabahar port project اور ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-انڈیا (TAPI) گیس پائپ لائن شامل ہے۔ ان منصوبوں میں مزید پیشرفت اور آگے کے عزائم کے لیے اس کانفرنس میں گفتگو بھی ہوسکتی ہے۔ ہندوستان اس بات کو بھی دہرائے گا کہ وہ افغانستان میں ترقی اور تجارتی شراکت دار کے طور پر ایک اہم شرکت دار رہے گا۔ ذرائع نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ یہ پہلی بار ہوگا کہ تمام وسطی ایشیائی ممالک افغانستان پر اس طرز کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
کون حصہ لے گا اور کون نہیں؟
چین، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان میں این ایس اے کے ہم منصبوں کو دعوت نامے بھیجے گئے تھے۔ دعوت نامے گزشتہ ماہ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹریٹ National Security Council Secretariat نے نئی دہلی میں مدعو ممالک کے سفارت خانے کے ذریعے بھیجے تھے۔
ایران، روس اور وسطی ایشیا کے پانچوں ممالک بشمول تاجکستان، کرغزستان، قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان نے اس اجلاس میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔ تاہم چین اور پاکستان نے شرکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف Moeed Yusuf نے اعلان کیا کہ وہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ جس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ وہ افغانستان میں ہندوستان کے کردار کے خلاف اپنا رد عمل ظاہر کرنا چاہتے ہوں۔
دریں اثنا ہندوستانی حکام کو امید ہے کہ چینی وزیر برائے ریاستی سلامتی چن وین کنگ Chen Wenqing یا کوئی اور سیکورٹی عہدے دار شخصی طور پر کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ دی ہندو کی ایک رپورٹ میں اس کا ذکر کیا گیا تھا۔
طالبان پر ہندوستان کا موقف:
ابھی تک کسی بھی ملک نے افغانستان کے وزیراعظم حسن اخوند Hasan Akhund کی سربراہی میں قائم طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ لیکن ہندوستان سمیت کئی ممالک مختلف سطحوں پر طالبان حکام کو شامل کر رہے ہیں۔ افغانستان پر اقوام متحدہ کے اجلاس میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر S Jaishankar نے کہا کہ نئی دہلی افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد ’’قابل فہم تشویش‘‘ کے ساتھ مذکورہ پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ہندوستان نے بار بار طالبان حکومت کے سلسلے میں واضح کیا ہے کہ اسے اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ افغانستان کی نئی انتظامیہ (طالبان) اقلیتوں، خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ ہندوستان کے افغانستان اور اس کے عوام کے ساتھ طویل عرصے سے تاریخی تعلقات ہیں۔ اس ملک کے افغان حکومت کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔ جو حال ہی میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک طرح سے معزول کا شکار ہیں۔ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہندوستان نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ہمیشہ افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور انسانی امداد بھیجنے کے لیے تیار ہے، جیسا کہ اس نے ماضی میں ایسے اقدامات کرکے دیکھائیں ہیں۔
ایس جے شنکر نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں واضح کیا کہ ہندوستان، افغان عوام کے تیئں انسانی امداد بھیجنے کے لیے تیار ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں بہترین ممکنہ ماحول پیدا کرنے میں مدد کرے۔
پاک کے انکار پر ہندوستان کا ردعمل:
ہندوستان نے پاکستان کے فیصلے کو ’’بدقسمتی لیکن حیران کن نہیں قرار دیا ہے۔