
سارایوو سے ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق بوسنیا ہرزیگونیا کی مسلم سپریم کونسل کے سربراہ حسن چنگیچ کو گذشتہ روز سپرد خاک کیا گیا جہاں تدفین میں انکے خاندان کے افراد کے علاوہ دیگر مسلم رہنما اور اعلی حکام شریک تھے۔
انکے جسد کے ہمراہ تربت کربلا جس کو کسی ایرانی اعلی شخص نے دیا تھا اور اسی طرح سے قاسم سلیمانی کی جانب سے انکو تحفہ میں دیا گیا تسبیح تربت کربلا بھی رکھا گیا۔
ان چیزوں کو انکے والد «حاجی خالد چنگیچ» کی اجازت اور انکے بھائی اور دیگر اہل خانہ سے ہم آہنگی کے بعد انکی قبر میں رکھا گیا ۔
حسن چنگیچ گذشتہ روز ۶۴ کی عمر میں دار فانی سے کوچ کرگیے ، وہ سابق ڈپٹی وزیر دفاع رہے جبکہ اسلامی سپریم کونسل کے سربراہ اور دیگر عہدہ پر بھی خدمات انجام دیتے رہیں۔

بوسنیا کے مختلف اعلی سیاسی، مذہبی اور ثقافتی شخصیات نے انکی وفات پر تعزیتی پیغامات جاری کیے ہیں۔
ایران کی سپار پاسداران کے اعلی نمایندے سردار محمدرضا نقدی نے بھی انکی وفات پر غم کا اظھار کرتے ہوئے کہا: اس عظیم انسان نے بالکان کی پہچان کے لیے قربانیاں پیش کی اور انکی کوششیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آنے والی نسلیں انکو قربانیوں کو فراموش نہیں کریں گی۔/