
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق ملک عزیز میں لاقانونیت کی حد ہوگیی ہے فحاشی اور عریانی کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں۔ ۔ اخلاقی زوال آخری حد کو بھی پار کر رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ایک بہت بڑا ہوش مند اور باشعور طبقہ چیخ اُٹھا ہے اور یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ: ’’بےغیرتی اور بےشرمی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اور اخلاقی حدوں کو پار کرنے والے عناصر کو بے نقاب کر کے ان کو سزا دینی چاہیے‘‘۔
کیا ہرسطح پر فحاشی برپا کرنے والوں اور قومی شاہراہ سے لیکر شہروں کے عین بیچ میں فحاشی کے اڈے قایم کرکے معصوم بچیوں کو ڈرگ میں مبتلا کرنا اور انکے ساتھ شرمناک فعل اور سر عام درندگی و دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف چھپ رہنا درست ہے؟ کیا کسی زندہ قوم کا ضمیر ایسے گھناؤنے واقعات کو ماضی میں دفن ہونے دے سکتا ہے؟ اور کیا صرف چند باشعور افراد کا مہذب انداز میں سنگین جرائم کی مذمت کر دینا ایسے واقعات کو روک سکتا ہے ؟
ان معاشرتی بے شرمناک خرابیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے اتوار بارہ دسمبر کوجید علما، سول سوسائٹی، سیاسی اور مذہبی تنظیموں اور اہلیان کوئٹہ کی جانب سے ایک ریلی کا اعلان کیا گیا ہے جسمیں تمام مرد و خواتین کو شرکت عام کی دعوت دی گیی ہے.
ریلی سہ پہر تین بجے مسجد خاتم الانبیاء سے شروع اور چوک شہدا پر اختتام پذیر ہوگی جس سے علما کرام اور سول سوسائٹی کے نمایندے و دیگر اسکالرز خطاب کریں گے۔