
ایرانی خاتون ٹیچر اور معروف خطاط تندیس تقوی سالوں سے فن خطاطی کررہی ہے جو ایک نصاب بنانے والی ماہر بھی ہے انہوں نے «فن خطاطی اور بین المذاہب ڈائیلاگ» کے حوالے سے لیکچر بھی دیا ہے۔
تندیس تقوی نے یونیورسٹی قرآنی فاونڈیش کی آن لائن نمایش بعنوان «قرآن و حافظ» کے حوالے سے شب یلدا کے موقع پر منعقد کی گیی ہے اس میں شریک رہی ہے۔
انہوں نے اس نمایش میں «قرآن و حافظ» کے لیے تین فن پارے ارسال کیے اور اسی مناسبت سے ایکنا نے ان سے گفتگو کی ہے۔

ایکنا ـ سب سے پہلے یہ فرمائیے کہ کس طرح سے بین الاقوامی «قرآن و حافظ» نمایش کی خبر ملی اور کیسے شرکت کی؟
قرآنی فاونڈیشن کی جانب سے پوسٹر «قومی کتابت قرآن کریم فیسٹیول» کو دیکھنے کے بعد توفیق حاصل کی اور اس میں شرکت کی، اسی طرح «بانوی انقلاب» نمایش جو ولادت حضرت فاطمه زهرا(س)، کی مناسبت سے منعقد ہوئی، «اسماء الحسنی» نمایش جو عید میلاد النبی اور هفته وحدت، (خط نستعلیق به مناسبت میلاد رسول گرامی اسلام (ص))، نمایش «نفس مطمئنه» جو امام حسین(ع) کے موضوع پر منعقد ہوئی ان سب میں شرکت کا موقع ملا اور اب «قرآن و حافظ» نمایش میں شریک ہوں۔

نمایش«قرآن و حافظ» میں تین فن پارے «جو کیا سب دولت قرآن کا اثر ہے»، «اس شب تاریک میں مقصود کھو گیا» اور «یوسف گم شدہ دوبارہ کنعان میں لوٹ آئیگا غم نہ کھا» کے عنوان سے میں نے تیار کیا ہے۔
اس سے پہلے تقریبا پچاس کے لگ بھگ نمایش جو مختلف ممالک جیسے جارجیا، ملایشیاء، فلپائن وغیرہ میں منعقد ہوچکی ہے ایران کی نمایندگی کی سعادت ملی ہے جہاں فن پارے اور لیکچرز کے مواقع ملے جہاں پر ایران کو بہتر متعارف کرنے کی میں نے کوشش کی۔
ایکنا ـ ایک فن پارے میں «بته جقه» کے عنوان سے حافظ کا شعر «هرچه کردم از دولت قرآن کردم» کے عنوان سے تیار کی ہے اس پر کتنا عرصہ لگا اور کیسے اس کا الھام ہوا؟

«بته جقه» ایرانی کاشی کاری اور مینیاچر کا حسین امتزاج ہے جسمیں تواضع اور صداقت کا پیغام دیا گیا ہے اور اسی طرح فلپاِینی خطاط «تایپان لوسرو» سے مشترکہ کام کے دوران اس کا الھام ہوا اور میں نے اس نماش کے لیے اس کا فن پارہ تیار کیا.
ایکنا ـ دوسرے دیگر فن پارے اور قرآنی خطاطی کے بارے میں فرمائیے.
اس شعبے میں تجربے کے بعد میں نے اکثر خط نستعلیق اور قرآنی خطاطی پر کام کیا جنمیں مکمل قرآن مجید کی خطاطی۔ اسمائے حسنی کی خطاطی اور مناجات حضرت علی(ع)، کی خطاطی ، « اسلام میں خواتین کے حقوق» پر چالیس آیات کی خطاطی اور حضرت علی(ع) کا خط مالک اشتر کے نام کی خطاطی شامل ہیں۔
ایکنا ـ اس طرح کی بین الاقوامی نمایش سے ایرانی فن کو متعارف کرانے میں کتنی معاونت ملتی ہے اور مزید کیا کرنا چاہیے؟
ایران ہمیشہ میڈیا میں سر فہرست رہتا ہے اور البتہ بعض اوقاف منفی خبریں بھی سازش کے تحت چلائی جاتی ہیں لہذا ضرورت ہے کہ ایرانی آرٹسٹ اس زوایے سے درست چہرہ پیش کرنے کے لیے ہمت کریں اور اصلی ایرانی چہرے کو واضح کریں اور آرٹ کی مدد سے معنویت و صداقت کی نمایش پیش کرنے کی کوشش کی جائے۔
ایکنا ـ اسلامی فن خطاطی کو کیا چیلنجیز درپیش ہیں اور خطاطوں کو کن مسائل کا سامنا ہے؟
اسلامی فن خطاطی ایک وحدت کا عامل ہے اور اس حوالے سے کافی ممالک میں یہ موجود ہے اور میں کہونگا کہ ایرانی خطاط کو ایرانی فن کا تشخص پیش کرنے کا چیلنج درپیش ہے کہ یہ فن عالم اسلام کا مشترکہ فن ہے اور اس سے وحدت کی بات ہوسکتی ہےاور بالخصوص خط نستعلیق کے کافی چاہنے اور اسی طرح مخالفت کرنے والے موجود ہیں تاہم روایتی اور ماڈرن خطاطی کا ٹکراو ہونا نہیں چاہیے۔
ممکن ہے کہ قرآن نستعلیق ایرانی اِعراب(حرکتگذاری) کے ساتھ ایک حسین امتزاج بنا سکے اور قرآن پڑھنے والوں کو دلوں کو جذب کرسکے اور عربی خط والے نسخے کا بہترین متبادل بھی بن سکے۔/