IQNA

8:03 - January 15, 2022
خبر کا کوڈ: 3511106
تہران(ایکنا) چالیس فلمی اداکاروں نے فسلطینی عوام کے حقوق کی حمایت اور غاصب رژیم کی سیاست کی مذمت کی ہیں۔

گارڈین نیوز کے مطابق ہالیووڈ بازی گروں میں معروف فلمی اسٹار جیسے سارانڈوس، مارک روفالو، پیٹرکال پاڈی، چالرز ڈنس، ویگو مورٹنسن، ماکسین پیک، ہریٹ والٹر اور اماواٹسن وغیرہ شامل ہیں جنہوں نے فلسطینی حقوق پر تاکید کی ہیں۔

 

واٹسن جو ہری پاٹر میں ہرماینی کا کردار ادا کرچکا ہ انہوں نے گذشتہ ہفتے کو فلسطینی حمایت کے مظاہروں میں حمایت کے طور پر " حمایت کرنا ایک ایکشن ہے" کے پوسٹ کیا جس پر انہیں یہودی مخالف ہونے کا الزام کا سامنا کرنا پڑا۔

 

اس پوسٹ پر صھونی حکام نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا، سابق صھیونی وزیر تعلیم ڈنی ڈانون جو نتین یاہو کابینہ کا حصہ تھا انہوں نے ہری پاٹر فلم کا ڈائیلاگ استعمال کیا تھا جسمیں کہا تھا کہ یہودی ڈیفینڈ میں دس نمبرسے محروم ہوگیے۔

 

اب چالیس ھالی ووڈ بازیگروں نے " فسلطینی حقوق کی حمایت میں اداکاروں کی حمایت" کے عنوان سے اعلان کیا ہے کہ ہم اس عبارت کے ساتھ " بولنا ایک ایکشن ہے" کے ساتھ فسلطینی کاز کی حمایت پر تاکید کی ہیں۔

 

اس بیان میں کہا گیا ہے: ہم اسرائیل کو ایک غاصب رژیم کے طور پر فلسطینی حقوق پر تسلط کی مذمت کرتے ہیں اور اس کو نسل پرستی کا حامی قرار دیتے ہیں اور مشرقی یورشلیم سے فلسطینی بیدخلی ، شیخ جراح، سلوان سے لوگوں کی جبری نکالنے کی مذمت کرتے ہیں۔

 

ہالی ووڈ اداروں نے تاکید کی ہے: ہم نسل پرستی کی ہرشکل کی مذمت کرتے ہیں اور ایک تعصب و نفرت سے پاک سسٹم اور اخلاقی نظام کو سب انسانوں کے فایدے میں ہو کی حمایت کرتے ہیں۔

 

اس بیان پر دستخط کرنے والوں میں معروف پروڈیوس جیمز شاموس، آسکار ایوارڈ یافتہ آصف کاپاڈیا، میرا نایر اور کن لوچ شامل ہے۔

 

واٹسن کی پوسٹ تین جنوری کو سامنے آیا جو ایک ہی دن میں ایک ملین لائیکس لینے میں کامیاب ہوئی اور ننانوے ہزار افراد نے کمنٹس کیا اور واٹسن کی حمایت میں ھیشٹیگ #FreePalestine و #PalestineWillBeFree ٹرینڈ کیا۔/

4028532

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: