IQNA

حکومت کو عوام کی نہیں بلکہ امریکہ کو خوش کرنے اور اسرائیل کو تسلیم کرنیکی فکر ہے، اسد عمر

11:01 - June 25, 2022
خبر کا کوڈ: 3512144
موجودہ حکومت کو یہ فکر ہے کہ ان کو لانے والے کیا چاہتے ہیں یعنی وہ امریکا جس نے بقول قومی سلامتی کے اجلاس کے کہ اس نے واضح بیرونی مداخلت کی وہ کیا چاہتا ہے، کیا وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے ان سے خوش ہوگا۔
ایکنا نیوز کے مطابق سابق وزیر خزانہ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے حکومت کی جانب سے سپر ٹیکس کے اعلان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل بجٹ آج مکمل ہوا ہے، اس لیے سینیٹ کو آج سے 14 دن کا وقت دیا جائے، اگر ایسا نہ ہوا تو بجٹ غیر آئینی ہو جائے گا اور عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ اپنی 30 منٹ کی بجٹ تقریر میں وزیراعظم نے مشکل سے 45 سیکنڈ اربوں روپے کے نئے ٹیکس لاگو کرنے پر بات کی اور بقایا 29 منٹس انہوں نے صرف نوادرات پیش کیے۔ اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم میں اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ بجٹ قومی اسمبلی کے فلور پر جاکر پیش کر دیں اور یہ بھی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ قومی اسمبلی کے بجائے وزیر اعظم نے بجٹ میں کیے گئے اقدامات کا باہر بیٹھ کر ایک کمرے میں اعلان کیا۔
 
وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے کہا گیا ملک دیوالیہ ہونے جا رہا ہے، لیکن ان کو یاد دلاتا چلوں کہ جب انہوں نے حکومت چھوڑی تھی تو اس وقت جون 2018 میں پاکستان اسٹیٹ بینک کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر 9.7 ارب ڈالر موجود تھے لیکن جب بیرونی سازش کے تحت عدم اعتماد کی تحریک پیش کر کے عمران خان کی حکومت گرائی گئی تو اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر 16.4 ارب ڈالر موجود تھے تو میاں صاحب کو بتا دوں کہ ملک دیوالیہ نہیں بلکہ بہتری کی طرف جا رہا تھا۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی 2018 کی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا تقابلی جائزہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں چھوڑے ہوئے زر مبادلہ کے ذخائر میں 7 ارب ڈالر کا اضافہ کیا اور معاشی ترقی کی رفتار 6 فیصد ہو چکی تھی اور صنعتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ فصلوں، برآمدات اور ترسیلات کے ریکارڈ قائم ہو رہے تھے۔
 
اسد عمر نے کہا کہ جس دن عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی اس دن سے لے کر گزشتہ ہفتے تک ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر بالکل آدھے ہو چکے ہیں جو کہ 16.4 ارب ڈالر سے کم ہو کر 8.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں مطلب کہ صرف 3 مہینوں کے اندر ہمارے آدھے زر مبادلہ کے ذخائر اڑ گئے اور ملک کا دیوالیہ پن میاں صاحب کی حکومت آنے کے بعد ہوا ہے۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ایندھن، گیس، بجلی، چینی، آٹا، گھی وغیرہ مہنگا کرنے کے بعد آج اربوں روپے کے نئے ٹیکس لاگو کرنے کے بعد بھی وزیر اعظم کہتے ہیں کہ اگر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کوئی نیا مطالبہ نہیں کیا تو پھر ہمارا معاہدہ طے ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت نے معیشت کی ترقی اور روزگار پیدا کرنے میں مددگار صنعتی شعبے پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن آج کا بجٹ اس شعبے پر بہت بڑا حملہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف کی تقریر سے اسٹاک مارکیٹ میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی آئی۔
 
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس خود کو ریلیف دینے کے لیے اربوں اور کھربوں روپے ہیں مگر جس وقت غریب عوام پر بوجھ ڈالنے کی بات آتی ہے تو یہ بہانے بنانے لگتے ہیں کہ کیا کریں آئی ایم ایف بات نہیں مان رہا۔ اسد عمر نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج شہباز شریف نے بڑا عظیم معاشی فلسفہ پیش کیا ہے کہ میں جان لڑا کر، پوری رات جاگ کر مہنگائی کم کروں گا تو کیا اب ہم یہ سمجھیں کہ میاں صاحب کا کپڑے بیچ کر مہنگائی کم کرنے والا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کو یہ فکر ہے کہ ان کو لانے والے کیا چاہتے ہیں یعنی وہ امریکا جس نے بقول قومی سلامتی کے اجلاس کے کہ اس نے واضح بیرونی مداخلت کی وہ کیا چاہتا ہے، کیا وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے ان سے خوش ہوگا۔
 
اسد عمر نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اصل بجٹ آج پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق جب بجٹ پیش کیا جاتا ہے تو سینیٹ کے پاس اس پر بحث اور اپنے مشاہدات اور تحفظات پیش کرنے کے لیے 14 دن کا وقت ہوتا ہے لیکن یہ لوگ اتنے ہوشیار تھے کہ انہوں نے 11 جون کو پیش کیے گئے بجٹ کو عارضی بجٹ کا نام دے دیا۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ان لوگوں نے 14 دن گزار دیئے اور آج اصل بجٹ کا اعلان کیا جس میں اربوں روپے کے ٹیکس لگائے گئے ہیں جو کہ سینیٹ کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چونکہ بجٹ آج مکمل ہوا ہے اس لیے سینیٹ کو آج سے 14 دن کا وقت دیا جائے، اگر ایسا نہ ہوا تو بجٹ غیر آئینی ہو جائے گا اور اس لیے اس سے عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
 
اسد عمر نے کہا کہ آج تمام پیداواری ذرائع اور روزگار دینے والی چھوٹی بڑی کپمنیوں پر بھاری ٹیکس لاگو کر دیا گیا ہے اور جن کے بارے میں عمران خان ہمیشہ کہتے تھے کہ یہ سب اندر سے ایک ہیں اب وہ لوگ صرف اندر سے نہیں بلکہ کھل کر باہر سے بھی ایک ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہم پیپلز پارٹی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ پنجاب میں ضمنی انتخابات مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر لڑیں گے تاکہ قوم کو پتہ چلے کہ چور کس طرف کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنے دور حکومت میں اس پیدوارای شعبے پر ٹیکس کم کیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے امیر لوگوں پر جو ٹیکس لگایا ہے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
نام:
ایمیل:
* رایے:
* :