
ایکنا- اناطولیہ نیوز کے مطابق اردنی فلم ساز خاتون سماح صافی بایزید کا کہنا تھا: میں اور میرا شوہر دس سالوں سے فلمسازی میں مشغول ہیں اور کبھی نہیں سوچا تھا کہ ڈیزنی میں سرگرم ہوں گے۔
بایزید LightArt Media Productions اور Light Art VR کی مالک ہے جو مجازی دنیا میں اسلامی طرز پر کام کے حوالے سے معروف ہے۔
مجازی حقیقت کا اسلامی ثقافت میں وجود اس وقت سے آیا ہے جب اس نے اپنے شوہر کے ساتھ ایک پارک کو دیکھا اور کہا کہ ہم بعنوان مسلمان ایسی سرگرمیوں سے محروم کیوں ہیں؟
انکا کہنا تھا کہ اس وقت ہم نے اس بارے میں سوچنا شروع کیا کہ اسلامی طرز پر ان کاموں کا آغاز کیا جایے۔
مذکورہ کمپنی مختلف زبانوں میں مجازی حقایق کو اسلامی طرز پر پیش کی جاتی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ میں اب امریکہ میں رہتی ہوں اور دیکھ رہی ہوں کہ مسلمان خواتین کی کیسی تصویر کشی کی جاتی ہے اور کیسے ہمار رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
انکا کہنا تھا: ہم نے نیویارک میں کام انجام دیا تاکہ اسلامی ثقافت کو پیش کرسکے، وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے ہم نے کہا کہ ایسا نہیں وہ کہتے ہیں کہ اسلام میں عورت پر مرد کا اجارہ داری ہے۔
بایزید کا کہنا تھا کہ عوام کو آگاہی دینا ہمارا مقصد ہے تاکہ وہ اسلامی ثقافت سے درست آگاہی حاصل کرسکے ہم موقع نہیں دینا چاہتے کہ وہ ہماری روایات اپنے انداز میں پیش کریں۔/
4097116