قائد اعظم کی 146ویں سالگرہ: صدر، وزیراعظم کا بانیِ پاکستان کے فرمودات کی پیروی پر زور

IQNA

قائد اعظم کی 146ویں سالگرہ: صدر، وزیراعظم کا بانیِ پاکستان کے فرمودات کی پیروی پر زور

17:45 - December 25, 2022
خبر کا کوڈ: 3513445
پاکستان، برصغیر کے مسلمانوں پر قائداعظم کا ایک احسانِ عظیم ہے، آج کا دن بانی پاکستان سے عہد کا دن ہے کہ ہم اپنے وطن کی سالمیت اورترقی کیلئے ہر قربانی دیں گے۔

ایکنا- ڈان نیوز کے مطابق برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن کی شکل میں عظیم تحفہ دینے والے قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔

قوم آج عقیدت و احترام سے ان کا یوم پیدائش منا رہی ہے جبکہ قومی اور سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے جارہے ہیں۔

آج کے دن کا آغاز ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعاؤں سے ہوا، ملک بھر کی اہم سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے جارہے ہیں۔

کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جہاں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کیڈٹس نے مزار قائد کے گارڈز کے فرائض سنبھالے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل عمر عزیز تھے جنہوں نے گارڈز کا معائنہ کیا، اعزازی گارڈز نے مہمان خصوصی میجر جنرل عمر عزیز کو جنرل سلام پیش کیا اور مہمانوں کی کتاب پر تاثرات بھی قلمبند کیے۔

تقریب میں پاک فضائیہ کےکیڈٹس گارڈز کے فرائض پاکستان آرمی کے کیڈٹس کےحوالے کیے گئے۔

صدر و وزیراعظم کے خصوصی پیغامات

قائد اعظم کے یوم پیدائش کی مناسبت سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خصوصی پیغامات میں قوم پر زور دیا کہ وہ بابائے قوم کے رہنما اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ملک کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنائے۔

صدر مملکت نے اپنے پیغام میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھنے کے حوالے سے پاکستان کے عہد کی تجدید کی۔

صدر عارف علوی نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن بنانے پر قائد اعظم کا شکریہ ادا کیا جہاں ہم اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے آزاد ہیں۔

انہوں نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہمیشہ پاکستان کے لیے قائد اعظم کے نظریے کی قدر کریں جہاں ہم اپنے تمام وسائل کو منظم انداز میں متحرک کریں اور قوم کو درپیش سنگین مسائل سے منظم انداز میں نمٹیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم بحیثیت قوم قائد اعظم کے نظریات پر عمل پیرا ہونے میں ناکام رہے ہیں، اتحاد کے فقدان سے بڑھ کر کوئی چیز قوم کو کمزور نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کے نظریے کی پاسداری سے ہی ہم تمام مشکلات کو شکست دے سکتے ہیں، آج کے دن میرا عزم ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے مطالبہ کیا کہ وہ قائد اعظم کی زندگی سے رہنمائی حاصل کریں اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے ان کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم کی جدوجہد اس تصور کے خلاف تھی کہ اکثریت عددی برتری کی بنیاد پر اقلیتوں کے حقوق غصب کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم نے مسلمانوں کے منفرد طرز زندگی کی بحالی اور قوم کی علیحدہ سماجی، اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی شناخت کے لیے جدوجہد کی۔

دیگر رہنماؤں کے پیغامات

دیگر رہنماؤں کی جانب سے بھی برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے حصول کی خاطر قائدِ اعظم کی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کے لیے آج کے دن کی مناسبت سے خصوصی پیغامات جاری کیے گئے۔

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان، برصغیر کے مسلمانوں پر قائداعظم کا ایک احسانِ عظیم ہے، آج کا دن بانی پاکستان سے عہد کا دن ہے کہ ہم اپنے وطن کی سالمیت اورترقی کیلئے ہر قربانی دیں گے۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ہم پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناح کے فرمودات کی روشنی میں ایک فلاحی اور اسلامی ریاست بنائیں گے، یومِ قائد پرہم عہد کریں کہ پاکستان کے ہر شہری کو اس کا آئینی تحفظ اور حقوق ملیں۔

سابق صدر اور شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ بانیِ پاکستان ایک حقیقی جمہوریت پسند اور روشن خیال رہنما تھے جنہوں نے انسانی اور مذہبی آزادی کی وکالت کی۔

قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے، وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل اور ایک سیاست دان تھے، انہوں نے 1913 سے 14 اگست 1947 تک پاکستان کی آزادی تک آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور پھر وہ 11 ستمبر 1948 کو اپنی وفات تک پاکستان کے پہلے گورنر جنرل رہے۔

محمد علی جناح کی شخصیت ایک اعلیٰ اور مثالی کِردار کی حامل تھی، انہوں نے مذہب کے جمہوری اور انصاف پر مبنی اُصولوں کو اپنا کر عزت حاصل کی، وکالت اور سیاست میں رہ کر اپنے دامن کو صاف ستھرا رکھا اور مسلمانوں کی ذِہنی تعمیرِنو میں روشنی کا مینار بنے رہے۔

انہوں نے حصول منزل کے لیے ایک ایسی بے مثل قیادت فراہم کی جس نے بے شمار رکاوٹوں کے باوجود دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک علیحدہ وطن کا قیام یقینی بنادیا۔

نظرات بینندگان
captcha