قرآنی تعاون، جاہلیت کی قوم پرستی اور ماڈرن پارٹی بازی

IQNA

تعاون قرآن کریم میں/8

قرآنی تعاون، جاہلیت کی قوم پرستی اور ماڈرن پارٹی بازی

4:56 - November 05, 2025
خبر کا کوڈ: 3519435
ایکنا: تعاون ایک بنیادی اسلامی اصول ہے جو مسلمانوں کو نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا حکم دیتا ہے اور باطل مقاصد، ظلم اور ستم میں تعاون کرنے سے روکتا ہے۔

ایکنا نیوز- یہ اصول جاہلیت کے قبیلہ پرستی کے قانون اور جدید دور کی جماعتی یا سیاسی وابستگی کے اس نظریے کے بالکل برعکس ہے جس میں کہا جاتا تھا: "اپنے ساتھی کی مدد کرو، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم"۔ یہی طرزِ فکر آج کے بین الاقوامی تعلقات میں بھی رائج ہے، جہاں اکثر ہم‌پیمان ممالک عالمی معاملات میں ایک دوسرے کی اندھی حمایت کرتے ہیں، بغیر اس کے کہ یہ دیکھیں کہ حق پر کون ہے اور ظالم کون۔

اگر اسلامی معاشروں میں تعاون کا حقیقی اصول زندہ ہوجائے، اور لوگ ذاتی تعلقات سے بالاتر ہوکر نیک و تعمیری کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار بنیں، اور ظالموں کا ساتھ دینے سے اجتناب کریں، تو بہت سے سماجی بگاڑ ختم ہوجائیں گے۔ اسی طرح اگر عالمی سطح پر ممالک ظالم و متجاوز حکومتوں سے تعاون نہ کریں، تو دنیا سے ظلم و تعدی کا خاتمہ ممکن ہے۔

پیغمبر اکرم ﷺ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: جب قیامت کا دن آئے گا تو منادی ندا کرے گا: کہاں ہیں ظالم اور ان کے مددگار؟ یعنی وہ لوگ جنہوں نے ان کے لیے دوات تیار کی، تھیلا باندھا یا ان کے لیے قلم کو سیاہی میں ڈبویا۔ ان سب کو ظالموں کے ساتھ ہی اٹھایا جائے گا۔

قرآنِ کریم میں ایک امتحان کی صورت میں فرمایا گیا ہے: «قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ»

"کہہ دو: اگر تمہارے باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں، قبیلے، وہ مال جو تم نے جمع کیا ہے، وہ تجارت جس کے مندی کا تمہیں خوف ہے، اور وہ مکانات جو تمہیں پسند ہیں — اگر یہ سب چیزیں اللہ، اس کے رسول، اور اس کی راہ میں جہاد سے تمہیں زیادہ عزیز ہیں، تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرمائے، اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔" (سورۃ التوبہ: آیت 24)

یہ آیت ایک عمومی ضابطہ پیش کرتی ہے کہ خاندانی یا دنیوی محبتیں اپنی ایک حد رکھتی ہیں، لیکن جب یہ محبتیں اللہ، رسول ﷺ اور دین کی راہ میں قربانی کے جذبے سے ٹکرا جائیں، اور دنیاوی محبت دینی احکام پر غالب آجائے، تو یہ فسق کا سبب بنتی ہے — اور فاسق شخص اپنے حقیقی مقصد (نجات و قربِ الٰہی) تک نہیں پہنچ سکتا۔ قرآن فرماتا ہے:  «وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ».

نظرات بینندگان
captcha