وال اسٹریٹ کا اسلام فوبیا بارے انڈین سیاست دانوں پر تنقید

IQNA

وال اسٹریٹ کا اسلام فوبیا بارے انڈین سیاست دانوں پر تنقید

9:22 - January 06, 2026
خبر کا کوڈ: 3519759
ایکنا: وال اسٹریٹ جرنل نے ایک مفصل رپورٹ شائع کی ہے جس میں بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی گئی ہے اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور امتیازی سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایکنا نیوز- الامہ نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمان اور عیسائی اقلیتیں نہایت دشوار حالات کا سامنا کر رہی ہیں، جبکہ ان کے خلاف تشدد کے واقعات میں مسلسل اور منظم انداز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتِ حال نے بھارت کی جانب سے سیکولر ازم کے تحفظ کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت مذہب اور نسل کی بنیاد پر امتیازی پالیسیاں نافذ کر رہی ہے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

اس رپورٹ کے مطابق مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف سماجی، معاشی اور سیاسی زندگی کے تمام شعبوں میں امتیاز پایا جاتا ہے، جن میں رہائش، ملازمت، تعلیم اور حقِ رائے دہی جیسے بنیادی حقوق شامل ہیں۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ہندوتوا—جو ایک ہندو قوم پرست تحریک ہے اور بھارت کے لیے خالص ہندو شناخت کو فروغ دیتی ہے—اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد کو ہوا دینے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

سال 2014ء میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ تحریک، جسے مختلف سیاسی دھڑوں اور متعدد ہندو انتہا پسند گروہوں کی حمایت حاصل ہے، بھارتی معاشرے میں مزید مضبوط ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں اقلیتوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں بھارت میں عیسائیوں کی مشکلات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو ملک کی کل آبادی کا تقریباً 2.3 فیصد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2015ء میں بھارت میں عیسائیوں کے خلاف تقریباً 706 تشدد کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں گرجا گھروں پر حملے اور کرسمس کی مذہبی علامات کی توہین شامل تھی۔

یہ تمام واقعات وفاقی حکومت کی خاموشی کے سائے میں رونما ہوئے، جو اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکام مذہبی اقلیتوں کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھارت کی بعض ریاستوں میں نافذ مذہبی تبلیغ مخالف قوانین اس انداز میں لاگو کیے جا رہے ہیں کہ وہ عیسائی اقلیت کے خلاف امتیازی سلوک کا سبب بن رہے ہیں اور ان پر دباؤ میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں نریندر مودی کی حکومت کی پالیسیوں کے بھارت کی عالمی ساکھ پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کو انسانی حقوق کے حوالے سے، خصوصاً اقلیتوں کے حقوق کے معاملے میں، عالمی برادری کی بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اس کے دعوؤں کو کمزور کر سکتی ہے۔/

 

4326980

نظرات بینندگان
captcha