
ایکنا نیوز کے مطابق، بلال بچپن ہی سے یتیمی کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا، مگر اس کے ساتھ قرآن کا نور بھی تھا؛ ایسا نور جس نے اسے غم سے نجات دی اور امید کے دروازے اس پر کھول دیے۔
بلال ایک متوسط گھرانے میں پروان چڑھا اور اس کی زندگی اچھی گزر رہی تھی، لیکن پھر قسمت نے اس کے والد کی وفات کی صورت میں ان پر ایک بے رحم صدمہ وارد کیا۔ اس کے والد صرف سرپرست ہی نہیں تھے بلکہ مسجد کے امام جماعت، قرآن کے معلم اور ایسی آواز تھے جو دلوں میں سکون پیدا کرتی تھی۔
والد کے انتقال نے ایک بڑا خلا اور شدید صدمہ چھوڑا جس نے ماں اور بچوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ لیکن ان کے ایمان کے اثرات ان کے دلوں میں گہرائی سے رچ بس چکے تھے، اور قرآن ایک ایسے مرہم میں بدل گیا جس نے انہیں اس مصیبت پر قابو پانے میں مدد دی۔
والد کے زیرِ سایہ تربیت
بلال نے سات سال کی عمر میں قرآن حفظ کرنا شروع کیا۔ وہ مسجد میں اپنے والد کے پاس بیٹھتا، ان کی آواز سے نورانی حروف کو جذب کرتا اور ان حسین لمحوں کو اپنی یادداشت میں محفوظ کر لیتا۔
اس کے والد ہمیشہ اس سے کہتے تھے: بلال! جب لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں تو قرآن تمہارا ساتھی بنتا ہے۔
والد کی وفات کے بعد بلال نے اس نصیحت کو نجات کی رسی کی طرح مضبوطی سے تھام لیا۔ اس نے حفظِ قرآن جاری رکھا یہاں تک کہ دو برس میں مکمل قرآن حفظ کر لیا اور دس پارے مکمل مہارت کے ساتھ تلاوت کرنے لگا۔ یوں وہ اس عظیم ورثے سے وفادار رہا جو اس کے والد اس کے لیے چھوڑ گئے تھے۔
شفقت بھرا ہاتھِ تعاون
قطر چیریٹی کے ذریعے مدد کا مہربان ہاتھ بلال تک پہنچا، جس نے اس کے خاندان کے حالات بہتر بنانے اور اس کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تعاون نے اسے بغیر رکاوٹ تعلیم اور حفظِ قرآن جاری رکھنے کے قابل بنایا۔ یہ مدد ایک ایسے پل کی مانند تھی جس نے اس کی زندگی میں دوبارہ استحکام پیدا کیا اور کم عمری میں اس پر پڑنے والی ذمہ داریوں کا کچھ بوجھ کم کر دیا۔
دل سے نکلا ہوا پیغام
بلال یتیم بچوں سے کہتا ہے: نماز اور قرآن سے وابستہ رہو، کیونکہ یہی زندگی کا نور اور اپنے عزیزوں کے بچھڑ جانے کے بعد روحانی و جذباتی سہارا ہیں۔
4350679