
ایکنا نیوز- الجزیرہ نیوز چینل کے مطابق فلسطینی فنکاروں نے اتوار کو غزہ کی بندرگاہ کے گھاٹ پر، اس سمندر کے رخ پر جو طویل عرصے سے محاصرے اور تکلیف کا گواہ رہا ہے، ایک ایسی دیواری پینٹنگ بنائی جو علامتوں اور مزاحمت سے بھرپور تھی۔ یہ پینٹنگ صمود بحری قافلے کے ساتھ یکجہتی اور سمندر میں اس قافلے پر اسرائیلی حملے کی مذمت کے لیے تیار کی گئی۔
یہ فن پارہ صرف دیوار پر رنگ بکھیرنے تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ تجسمی فنکاروں کی ایک اجتماعی آواز تھی جنہوں نے اپنے برش کو مزاحمت کا ذریعہ بنا لیا۔ انہوں نے غزہ کی پٹی پر مسلط محاصرے کے خلاف مسلسل احتجاج اور بین الاقوامی یکجہتی کی طاقت پر اپنے یقین کا اظہار کیا تاکہ برسوں سے جاری تنہائی کو ختم کیا جا سکے۔
اس دیواری پینٹنگ میں ترکی سمیت مختلف ممالک کے پرچم شامل تھے، اور ساتھ ہی بین الاقوامی پانیوں میں سفر کرتی بڑی کشتیوں کے مناظر بھی دکھائے گئے تھے۔
واضح رہے کہ ’’صمود‘‘ (استقامت) نامی بحری قافلہ، جس نے اپنی مہم ’’بہار 2026‘‘ کے عنوان سے اٹلی کے جزیرہ سسلی سے آغاز کیا تھا، جزیرہ کریٹ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی فوج کے حملے کا نشانہ بنا۔
اس مشن میں دنیا کے 39 ممالک سے تعلق رکھنے والے 345 امن کارکن شریک تھے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسز نے 21 کشتیوں کو ضبط کر لیا، جبکہ بعض دیگر کشتیاں یونان کے ساحلی پانیوں تک پہنچنے میں کامیاب رہیں۔/
4350417