
ایکنا نیوز- وزارت حج سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ آج سے 15 سال سے کم عمر کسی بھی زائر کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ تین ہفتوں سے مختلف ممالک کے حجاج کرام حج تمتع کی ادائیگی کے لیے سرزمینِ وحی پہنچ رہے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں سعودی حکام نے 12 سال سے کم عمر زائرین کے داخلے پر پابندی کا اعلان کیا تھا، لیکن ویزا جاری کرتے وقت اس عمر کی شرط پر سختی سے عمل نہیں کیا جاتا تھا اور بچوں کو بھی ویزے جاری کر دیے جاتے تھے۔ یہی مسئلہ شدید گرمی کے دوران اموات میں اضافے، خصوصاً بچوں کی ہلاکتوں، کا سبب بنا۔
اسی تناظر میں سعودی عرب نے اچانک فیصلہ کرتے ہوئے عمر کی حد تین سال مزید بڑھا دی اور 15 سال سے کم عمر زائرین کے داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ ان افراد کو جاری کیے گئے ویزے 5 مئی سے غیر مؤثر تصور ہوں گے، اور اگر وہ سعودی عرب پہنچتے ہیں تو ہوائی اڈوں پر انہیں داخلے سے روک دیا جائے گا۔
سعودی حکومت نے یہ عمر کی پابندی صرف غیر ملکی زائرین پر نافذ کی ہے، جبکہ ملک کے اپنے شہری اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
سلمان بن صالح کا کہنا ہے کہ سعودی شہری مقامی موسمی حالات سے ہم آہنگ ہوتے ہیں، اور کم فاصلے کے باعث بچوں کو ایامِ حج میں مشکلات پیش نہیں آتیں۔
اس کے برعکس قادر طہ نے کہا ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو یہ پابندی زائرین کی روانگی سے قبل اعلان کرنی چاہیے تھی، نہ کہ سفر کے دوران۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانون تمام زائرین پر یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے، بصورتِ دیگر اسلامی تعاون تنظیم کو مداخلت کرتے ہوئے اس واضح امتیازی پالیسی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔/
4350532