
ایکنا نیوز- ویب سائٹ "الکمپس" کے مطابق سویڈن کی وزیر خارجہ ماریا مالما اسٹینرگارد نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ "اسلاموفوبیا" کی اصطلاح کو ترک کر کے اس کی جگہ "مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی" کی اصطلاح استعمال کی جائے، کیونکہ وہ "اسلاموفوبیا" کو ایک "مسئلہ خیز" اصطلاح سمجھتی ہے۔
انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ "فوبیا" کا لفظ اس رجحان کو غیر منطقی ذاتی خوف سے جوڑ دیتا ہے، جبکہ اصل مسئلہ مسلمانوں کے خلاف امتیاز اور نسل پرستی ہے، جس پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یہ اصطلاح بعض اوقات مذاہب پر تنقید کے ساتھ خلط ملط ہو سکتی ہے، جبکہ حکومت اس قسم کی تنقید کو محدود کرنا نہیں چاہتی۔
یہ وضاحت پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس وقت پیش کی گئی جب سویڈن ڈیموکریٹس (SD) کے رکن ریکارڈ یومشوف نے 15 مارچ کو اقوام متحدہ کے عالمی یومِ انسداد اسلاموفوبیا کے موقع پر حکومت کی جانب سے اس اصطلاح کے استعمال پر تنقید کی تھی۔
اس اصطلاح کے بارے میں حکومت کا تنقیدی مؤقف دسمبر 2024 میں منظور ہونے والے "نسل پرستی اور نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف ایکشن پلان" سے شروع ہوا، جس میں اسلاموفوبیا کی اصطلاح پر سوال اٹھایا گیا، حالانکہ اس سے پہلے 2022 کے ایک پروگرام میں حکومت نے خود اس اصطلاح کو استعمال کیا تھا۔
وزیر خارجہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حکومت اب اس اصطلاح کے متبادل کو یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی سطح پر متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے، اور اس سلسلے میں پہلا قدم یورپی یونین کے مشترکہ مؤقف کو یکجا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی یا مسلمانوں کے خلاف نفرت جیسی متبادل اصطلاحات اپنانا چاہتی ہے، اور اس حوالے سے 18 اور 19 مئی کو برسلز میں ایک یورپی اجلاس میں اس موضوع پر بحث ہوگی۔
یومشوف اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے بھی بارہا اسلاموفوبیا کی اصطلاح پر تنقید کی ہے اور اسے ایک من گھڑت اصطلاح قرار دیا ہے جسے دنیا بھر میں اسلام پسند عناصر اسلام اور اسلام ازم پر جائز تنقید کو مسخ اور خاموش کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
4349248