«العفاسی» کی گستاخانہ آئیڈلوجی اس کی اپنی توہین ہے

IQNA

عراقی قاری؛

«العفاسی» کی گستاخانہ آئیڈلوجی اس کی اپنی توہین ہے

7:22 - May 03, 2026
خبر کا کوڈ: 3520172
ایکنا: عراقی قاری استاد علی الخفاجی کا کہنا ہے کہ مشاری راشد العفاسی کے حالیہ مؤقف، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف امریکی ـ صہیونی جارحیت کی حمایت کی، اس بات کی علامت ہیں کہ وہ ایمان کے راستے سے ہٹ چکے ہیں۔

ایکنا نیوز- مشاری العفاسی، جو ایک معروف قاری اور کویت کی جامع مسجد کے امام ہیں، نے حال ہی میں ایک کلپ "تبت یدین ایران واللی مع ایران" کے عنوان سے جاری کیا، جس میں انہوں نے ایران اسلامی کے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی حقیقت دنیا کے سامنے ظاہر کر دی۔

انہوں نے اس کلپ میں آیت «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» کو تحریف کر کے "ایران اور اخوان المسلمین کے ہاتھ کٹ جائیں" جیسے نعرے لگائے، جبکہ غزہ میں صہیونی رژیم کے جرائم اور بے گناہ افراد کے قتل کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ العفاسی نے اس کے ساتھ ساتھ بعض عرب حکمرانوں کی بھی تعریف کی۔

یہ کویتی قاری، جس نے اپنی شہرت کو عالم اسلام اور سوشل میڈیا میں غلط استعمال کیا اور بعض عرب حکومتوں کے ہاتھوں ایک آلہ کار بن گیا، اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ ایران کے خلاف سخت اقدامات کرے۔

علی الخفاجی نے ایکنا سے گفتگو کرتے ہوئے مشاری العفاسی کے حالیہ بیانات کی مذمت کی اور اسے ایران اسلامی کے خلاف ایک غیر منصفانہ نعرہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ یہ ناعادلانہ نعرہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران دنیا کی ظالم ترین طاقتوں، یعنی امریکہ اور صہیونی رژیم، کا مقابلہ کر رہا ہے۔

الخفاجی نے مزید کہا کہ مشاری العفاسی اپنے اس عمل کے ذریعے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے بیانیے کا حصہ بن گئے ہیں اور ایک ایسی قوم کے خلاف بول رہے ہیں جو انسانیت، دین اور اخلاق کے اعتبار سے نمایاں رہی ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران نے اپنے دشمن کے ساتھ جنگ میں بھی اخلاق اور پیغمبر اکرمؐ اور اہل بیتؑ کی سیرت کو ملحوظ رکھا۔

علی الخفاجی نے اس قاری کے نظریات کے اثرات کے بارے میں کہا کہ عرب دنیا کے کئی ممالک میں سوشل میڈیا صارفین اور کارکنان نے اس مؤقف کی مذمت، تنقید اور تمسخر کیا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ طرز عمل ایمان کے راستے سے انحراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ العفاسی نے ایک گمراہ کن نظریہ اختیار کیا ہے اور اپنے اعمال کے نتائج خود بھگتے گا۔ لہٰذا اس کے اس عمل نے ایران کو نقصان پہنچانے سے پہلے خود اسی کو نقصان پہنچایا ہے، جو واضح طور پر نظر آتا ہے۔

علی الخفاجی نے معروف قول "کتنے ہی قاری ایسے ہیں جن پر قرآن خود لعنت کرتا ہے" کا حوالہ دیتے ہوئے اس واقعے پر واضح مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور حسنِ انجام اور عقیدے پر ثابت قدمی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے ابن ملجم کے انجام کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ وہ بھی ایک خوش آواز قاری تھا، لیکن محض خوبصورت آواز کافی نہیں، بلکہ مضبوط ایمان اور سچا عقیدہ ضروری ہے۔/

 

4348287

نظرات بینندگان
captcha