
ایکنا نیوز- مشاری العفاسی، جو کویت کی جامع مسجد کے معروف قاری اور امام ہیں، نے حال ہی میں “تبت یدین ایران واللی مع ایران” کے عنوان سے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے ایران اسلامی کے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنا اصل چہرہ ظاہر کیا۔
انہوں نے اس ویڈیو میں آیت «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» کو تحریف کرتے ہوئے ایران اور اخوان المسلمین کے خلاف نعرہ لگایا، جبکہ غزہ میں صہیونی حکومت کے جرائم اور معصوم بچیوں کے قتل کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اسی ویڈیو میں انہوں نے بعض عرب ممالک کے حکمرانوں کی تعریف بھی کی۔
یہ کویتی قاری، جس نے اسلامی دنیا میں اپنی شہرت اور سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے خود کو بعض عرب حکومتوں کے ہاتھوں ایک آلہ کار بنا لیا ہے، اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جہنم کے دروازے کھول دے۔
اس حوالے سے ایکنا نے لبنانی قاری اور بین الاقوامی قرآنی مقابلوں کے جج حاج حسین حمدان سے گفتگو کی۔
حمدان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مشاری العفاسی کے حالیہ مؤقف شیطانی ہیں اور ان کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے سورہ مائدہ کی آیت 44 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ" ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی کافر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس قاری کی باتیں اللہ کو خوش نہیں کرتیں بلکہ ظالم حکمرانوں کو خوش کرتی ہیں، اور اس کے مؤقف سراسر شیطانی ہیں جن کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ ظالم، کافر اور فاسق ہیں، اور ایسے بہت سے قاری ہیں جن پر قرآن نے لعنت کی ہے۔
عالم اسلام میں مشاری العفاسی کے خیالات کے اثرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کے افکار صرف اُن لوگوں پر اثر انداز ہوتے ہیں جو اس جیسے ہیں اور دنیاوی مفاد کے لیے دین کو بیچ دیتے ہیں، جبکہ اہلِ عقل اس کے شیطانی اعمال کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے قرآنی کارکنوں، قاریوں، حفاظ اور نعت خواں حضرات کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں واضح کرنا چاہیے کہ قرآن تدبر کی کتاب ہے، محض خوبصورت آواز اور نغمگی کا کھیل نہیں۔ قرآن کا پیغام یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کے درست مقام پر رکھا جائے۔
انہوں نے میڈیا کی ذمہ داری کے بارے میں کہا کہ اس قاری کی تلاوتوں کو ریڈیو، ٹی وی اور سوشل میڈیا سے ہٹا دینا چاہیے تاکہ معاشرہ اس کے اثر سے محفوظ رہے اور یہ غلط فہمی پیدا نہ ہو کہ دین کی اصل صرف خوبصورت آواز ہے۔
انکا کہنا تھا کہ مشاری العفاسی کی خوبصورت آواز، جو اس کے تجویدی مہارت کی وجہ سے مشہور ہے، ایسے شخص کی مانند ہے جو بولنا تو سیکھ گیا ہو مگر ادب و اخلاق کی حدود کو پامال کرتا ہو۔ انہوں نے اسے ایک ایسے کتے سے تشبیہ دی کہ جسے چاہے بھگاؤ یا چھوڑ دو، وہ بھونکتا ہی رہتا ہے۔
حمدان نے لبنان میں عوامی رائے اور قرآنی کارکنوں کے ردِعمل کے بارے میں کہا کہ بلا شبہ اس کویتی قاری کے مؤقف کو لبنان اور پورے عالمِ اسلام میں قاریانِ قرآن کی جانب سے ردّ اور تمسخر کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ قرآن کے خالص معارف سے استفادہ کرنے اور انحراف سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآنِ کریم کو حقیقی معنوں میں سمجھیں، خواہ اس کا ظاہر ہو یا باطن۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورہ محمد کی آیت 24 میں فرماتا ہے: «أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا» ترجمہ: “کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں؟”
قرآنِ کریم ہمیں بلعم بن باعوراء کا واقعہ سناتا ہے، جو بنی اسرائیل میں ایک صالح بندہ اور عالم تھا اور اس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود اس نے شیطان کا راستہ اختیار کیا اور وہ گمراہ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ سورہ اعراف کی آیات 175 اور 176 میں فرماتا ہے: «وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ(۱۷۵) وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ(۱۷۶)»
ترجمہ: اور انہیں اس شخص کا حال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں، پھر وہ ان سے الگ ہو گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں شامل ہو گیا (175)۔ اور اگر ہم چاہتے تو ان آیات کے ذریعے اس کا مقام بلند کر دیتے، لیکن وہ دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور اپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگا، پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تو بھی زبان نکالے رکھتا ہے اور اگر اسے چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رکھتا ہے۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، پس یہ قصے بیان کرو تاکہ وہ غور و فکر کریں (176)۔
4348944