احمد رضا رضوی زرارہ، انچارج شعبہ قم مجلس علمائے ہند کے قلم سے

IQNA

نوٹ؛ رهبر شهید انقلاب؛ تفسیر مجسم «اشداء علی الکفار، رحماء بینهم»

احمد رضا رضوی زرارہ، انچارج شعبہ قم مجلس علمائے ہند کے قلم سے

16:35 - May 12, 2026
خبر کا کوڈ: 3520205
ایکنا: قرآنِ کریم صرف انسانی معاشرے کی ہدایت کی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ یہ کتاب ان مؤمن شخصیات کی صفات بیان کرتی ہے جو ایک صالح معاشرہ تشکیل دیتی ہیں۔

ایکنا نیوز- مومن شخصیات کی اعلیٰ صفات میں سے ایک سورۂ فتح کی آیت 29 میں بیان ہوئی ہے:

"محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں نہایت مہربان ہیں۔"

اسلامی تاریخ میں ایسی شخصیات موجود ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی میں اس آیت کے مفہوم کو مجسم کر دیا۔ مقامِ معظم رہبری کی شخصیت اسی قرآنی معیار کی ایک روشن مثال تھی۔ ان کی بابرکت زندگی میں شفقت اور استقامت، محبت اور عزم، صبر اور شجاعت ایک حسین توازن کے ساتھ جمع تھے۔

مؤمنین کے لیے رحمت کی علامت

مقامِ معظم رہبری کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا نرم دل اور امت کے ساتھ گہرا عشق تھا۔ وہ امت کو محض ایک سیاسی یا سماجی ہجوم نہیں سمجھتے تھے بلکہ ایک بڑے خاندان کی حیثیت سے دیکھتے تھے۔

ان کی گفتگو میں محبت کی خوشبو، لہجے میں پدرانہ شفقت اور کردار میں اخلاص نمایاں تھا۔ علماء، طلبہ، نوجوانوں، مجاہدین اور محروم طبقات کے ساتھ ان کی ہمدردی اس قدر نمایاں تھی کہ ہر شخص ان کے پاس محبت اور تحفظ کا احساس کرتا تھا۔

وہ اکثر نوجوانوں کو امید، خود اعتمادی اور دینی بصیرت کی دعوت دیتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ امت کا حقیقی سرمایہ اس کے بیدار اور مؤمن نوجوان ہیں، اسی لیے ان کی تربیت اور رہنمائی کو وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔

مقامِ معظم رہبری کے مطابق اسلامی معاشرے کی بنیاد محبت، اخوت اور باہمی تعاون پر قائم ہونی چاہیے۔ وہ امت کو اختلافات اور تفرقے سے بچنے کی تلقین کرتے اور ہمیشہ وحدتِ اسلامی پر زور دیتے تھے۔ یہی وہ صفت ہے جسے قرآنِ کریم نے “رحماء بینهم” کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔

دشمنانِ اسلام کے مقابل استقامت

اگر ان کی شخصیت کا ایک پہلو محبت اور نرمی تھا تو دوسرا پہلو غیر معمولی شجاعت اور استقامت کا تھا۔ جب اسلام، امت اور مظلوموں کے حقوق کی بات آتی تو وہ کسی مصلحت یا کمزوری کے قائل نہ تھے۔

وہ ہمیشہ استکبار، ظلم اور استعمار کے خلاف واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرتے تھے۔ قرآن جس روحیہ کو “اشداء علی الکفار” کے الفاظ میں بیان کرتا ہے، وہ ان کے اقوال اور اعمال میں نمایاں تھا۔

ان کا عقیدہ تھا کہ اگر امتِ مسلمہ اپنی عزت اور استقلال کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے باطل قوتوں کے سامنے سر جھکانے کے بجائے استقامت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

اگرچہ آج وہ ظاہری طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کے افکار، پیغام اور مجاہدانہ زندگی آج بھی آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن چراغ ہیں۔

ان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قرآن کی آیات صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ اپنی زندگی میں عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے ہیں۔

بلاشبہ مقامِ معظم رہبری کی شخصیت “اشداء علی الکفار رحماء بینهم” کی ایک زندہ اور روشن تفسیر تھی، اور ان کا پیغام آج بھی دنیا بھر کے مؤمنین کو عزت، وحدت اور استقامت کا درس دے رہا ہے۔/

 

4350476

نظرات بینندگان
captcha