بچپن میں حفظ سے لیکر کعبه میں تلاوت تک؛ شیخ طبلاوی کے کارنامے+ تلاوت

IQNA

بچپن میں حفظ سے لیکر کعبه میں تلاوت تک؛ شیخ طبلاوی کے کارنامے+ تلاوت

6:32 - May 10, 2026
خبر کا کوڈ: 3520195
ایکنا: مصر کے معروف قاری محمد محمود طبلاوی، چھ سال قبل 86 برس کی عمر میں اور قرآن کی راہ میں 60 سالہ خدمات انجام دینے کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

ایکنا نیوز کے مطابق محمد محمود طبلاوی نے 5 مئی 2020ء  کو 86 برس کی عمر میں وفات پائی۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک قرآنِ کریم کی خدمت انجام دی۔

شیخ طبلاوی مصر کے صاحبِ اسلوب اور منفرد طرزِ تلاوت رکھنے والے قراء میں شمار ہوتے تھے اور انہیں «نقیب القراء» کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ انہوں نے ساٹھ برس سے زائد عرصہ اس میدان میں خدمات انجام دیں۔

وہ 14 نومبر 1934ء کو صوبہ جیزہ کے علاقے میت عقبہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 9 برس کی عمر میں مکمل قرآن حفظ کر لیا اور جلد ہی ان کی تلاوت کی شہرت عام ہو گئی۔ یہ معروف مصری قاری 12 برس کی عمر میں ہی بڑے بزرگوں، حکام، نمایاں شخصیات اور معروف خاندانوں کی تقریبات میں ریڈیو کے مشہور قراء کے ساتھ مدعو کیے جانے لگے۔ 15 برس کی عمر سے پہلے ہی انہوں نے ان کے درمیان ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا، یوں ان کے دادا کی وہ پیش گوئی پوری ہوئی کہ ان کا پوتا حافظ اور قاریِ قرآن بنے گا۔

شیخ طبلاوی بین الاقوامی حفظِ قرآن مقابلوں میں بطور جج بھی سرگرم رہے اور دنیا بھر کے متعدد مقابلوں میں فیصلے کیے۔ قرآنِ کریم کی خدمت کے اعتراف میں لبنان کے حکام نے انہیں خصوصی انعام سے بھی نوازا۔

انہیں «سنہری آواز» کے لقب سے بھی شہرت حاصل تھی۔ دنیا کے مختلف ممالک، حتیٰ کہ ویٹیکن کی جانب سے بھی انہیں سرکاری دعوت نامے موصول ہوتے تھے۔

ریڈیو میں بطور قاری شمولیت اختیار کرنے کے لیے انہوں نے دیگر قراء کے مقابلے میں سب سے زیادہ جدوجہد کی۔ ان کے صبر و استقامت کی مثال دی جاتی تھی کہ وہ بارہا ریڈیو کے چکر لگاتے رہے تاکہ انہیں بطور قاری قبول کیا جائے۔

تاہم ایک انٹرویو میں انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا: لوگوں کی محبت اور احترام میرے لیے اعزاز ہے، لیکن مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ مصر میں صرف فنکاروں کو عزت دی جاتی ہے۔

بالآخر وزارتِ اوقاف نے جنوبی سینا کے شہر شرم الشیخ میں منعقدہ قرآنِ کریم کے 23ویں بین الاقوامی مقابلے کی اختتامی تقریب میں، ممتاز قراء کے ایک منتخب گروہ کے ساتھ، جن میں محمود خلیل الحصری اور عبدالباسط عبدالصمد شامل تھے، ان کی بھی تکریم کی۔

شیخ طبلاوی نے دنیا کے 100 سے زائد ممالک کا سفر کیا، لیکن ان کے دل و دماغ میں ہمیشہ باقی رہنے والا سفر سعودی عرب کا تھا، جہاں انہوں نے خانۂ کعبہ کے اندر اذان سے قبل تلاوتِ قرآن کی۔ وہ واحد قاری تھے جنہوں نے کعبہ کی دیواروں کے درمیان قرآن کی تلاوت کی سعادت حاصل کی۔

ان کی وفات کے روز حفاظِ قرآن کی تربیت کے ایک مرکز کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا۔ اسی طرح قراء یونین نے بھی اعلان کیا کہ ان کے علمی و قرآنی ورثے اور مقام کے شایانِ شان ایک تقریب منعقد کی جائے گی۔

آخر میں پیش کیا جانے والا ویڈیو محمد محمود طبلاوی کی سورۂ یونس کی آیات 84 تا 86 کی تلاوت پر مشتمل ہے۔/

 

 

ویڈیو کا کوڈ

 

4350553

نظرات بینندگان
captcha