
ایکنا نیوز کے مطابق، داتوک سری احمد زاہد حمیدی نے کہا کہ قومی نظامِ تعلیم میں اسلامی تعلیم اور اخلاقی اقدار کی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دینی تعلیم اور کردار سازی کو کسی ثانوی یا ضمنی شعبے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے یہ بات کوالالمپور میں منعقدہ ایک تعلیمی کانفرنس کے دوران کہی۔ اس موقع پر نائب وزیر اعظم نے اس امر کی اہمیت اجاگر کی کہ ایسی نسل تیار کی جائے جو علمی برتری کے ساتھ اخلاقی وابستگی بھی رکھتی ہو، تاکہ ایک متوازن معاشرہ تشکیل پائے جو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مقصد صرف حفاظِ قرآن کی تربیت تک محدود نہیں، بلکہ مختلف شعبوں جیسے انجینئرنگ، طب، ٹیکنالوجی اور کاروباری میدان میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تیاری بھی اس کا حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مضبوط اخلاقی بصیرت رکھنے والی مستقبل کی قیادت کی تربیت بھی ضروری ہے۔
داتوک سری احمد زاہد حمیدی نے مزید کہا کہ دینی تعلیم کو جدید تعلیم کے ساتھ ہم آہنگ کرنے سے معاشرے میں اقداری نظام مضبوط ہوتا ہے اور ایسا تعلیمی ماڈل تشکیل پاتا ہے جو علمی ترقی اور اخلاقی تربیت کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ مستقبل کے رہنما ایسے ہوں جو علمی قابلیت کے ساتھ دینی وابستگی بھی رکھتے ہوں۔/
4350923