
ایکنا نیوز کے مطابق صدیوں سے مغرض ذرائع ابلاغ حقائق کو مسخ کرکے اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کے عقائد کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور جھوٹ یہ ہے کہ شیعوں کا اپنا الگ قرآن ہے جو مسلمانوں کے موجودہ قرآن سے مختلف ہے۔ یہ دراصل مکتبِ اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کو اسلام کے بنیادی سرچشمے سے الگ تھلگ کرنے کی ایک ناکام کوشش رہی ہے۔
ایسے ماحول میں علم و علماء کے مرکز نجف اور روضہ امام علی کے جوار میں ان الزامات کا جواب صرف تقاریر کے ذریعے نہیں بلکہ ایک تاریخی اقدام کے ذریعے دیا گیا، یعنی "مصحفِ نجف" کی رونمائی، جس نے 29 اپریل 2026 کو دینی و ثقافتی حلقوں میں غیر معمولی توجہ حاصل کی۔ سوال یہ تھا کہ آیا یہ کوئی نیا اور مختلف قرآن ہے یا پھر ایسا کارنامہ جو شکوک و شبہات پھیلانے والوں کو خاموش کر دے گا؟
5 مئی 2026 بروز منگل، حجت الاسلام والمسلمین سید احمد الصافی، متولیِ روضہ حضرت عباس نے حرمِ حسینی اور عباسی کے قراء کے وفد سے ملاقات میں کہا کہ "مصحفِ نجفِ اشرف" اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کے خلاف قرآنِ کریم کے حوالے سے اٹھائے جانے والے بعض شبہات کا عملی جواب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قرآنِ نجف کی طباعت اور اس کے مختلف مراحل کا آغاز 2009 میں ہوا، پانچ برس کی مسلسل محنت کے بعد یہ منصوبہ مکمل ہوا، رمضان المبارک 1447 ہجری میں اس کی تکمیل ہوئی اور امام علی الرضا علیہ السلام کے یومِ ولادت کے موقع پر اس کی رونمائی کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ نجف اشرف کے نام سے منسوب یہ قرآن اس لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ قرآنِ کریم کے بارے میں اہلِ بیتؑ کے ماننے والوں پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کا واضح جواب ہے۔
کئی دہائیوں تک پورا عراق، بالخصوص نجف اشرف، قرآن کے لیے بیرونِ ملک چھپنے والے نسخوں پر انحصار کرتا رہا، مگر “قرآنِ نجفِ اشرف” کے منصوبے نے اس روایت کو بدل دیا۔ یہ پہلا ایسا قرآن ہے جو خطاطی، ڈیزائن، طباعت اور تیاری کے ہر مرحلے میں مکمل طور پر عراق میں تیار کیا گیا۔
یہ صرف قرآن کا نیا نسخہ نہیں بلکہ “فنی خودمختاری کی دستاویز” ہے، کیونکہ اسے عراقی شیعہ ماہرین کے ہاتھوں اور ذہانت سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ عراق، جو علم و معرفت کا مرکز ہے، اصیل عثمانی رسم الخط میں قرآن شائع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، وہی رسم الخط جسے مشرق و مغرب کے تمام مسلمان عبادت میں استعمال کرتے ہیں۔ یوں یہ عراقی فن سے مزین قرآن، شیعوں کے خلاف پھیلائے جانے والے الزامات کا عملی جواب بن گیا ہے۔
"مصحفِ نجفِ اشرف" ایک نہایت باریک بین علمی اور فنی جانچ کے مراحل سے گزرا، جو کئی برسوں پر محیط تھے۔ حفاظ، قراء اور حوزۂ علمیہ کے اساتذہ پر مشتمل کمیٹیوں نے ہر حرف اور ہر علامت کا جائزہ لیا تاکہ اس کی مکمل مطابقت عثمانی رسم الخط سے یقینی بنائی جا سکے۔
یہ عمل اس وقت اپنے عروج کو پہنچا جب آیت اللہ سیستانی اس پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے اسے ایک بابرکت اور ہر قسم کی کمی و زیادتی سے محفوظ نسخہ قرار دیا۔
روضہ حضرت عباس نے اس منصوبے میں صرف خوشخطی اور ظاہری حسن پر اکتفا نہیں کیا بلکہ "دارالکفیل" میں جدید ترین طباعتی ٹیکنالوجی سے بھی فائدہ اٹھایا تاکہ عالمی معیار کے مطابق قرآنِ کریم کی اشاعت، طباعت اور تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔/
4353873