
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ایک ایسے منفرد پروگرام میں جس میں مذہبی، ثقافتی اور سفارتی پہلو یکجا تھے، روس کے وسط میں واقع جمہوریہ تاتارستان کے دارالحکومت کازان میں “روس ـ عالمِ اسلام: کازان فورم 2026” کے مہمانوں کو جدید روسی تاریخ کا پہلا ہاتھ سے تحریر کردہ قرآنِ کریم بطور یادگار تحفہ پیش کیا گیا۔
یہ اقدام روس کی بڑھتی ہوئی ثقافتی موجودگی اور عالمِ اسلام کے ساتھ اس کی شراکت داری کے فروغ کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کو مکمل ہونے میں چار سال کا عرصہ لگا، جس کے باعث اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ اس کے ذریعے 1917 کے بعد سے تقریباً غیر فعال ہو جانے والی تاتاری اسلامی خطاطی کی روایت کو دوبارہ زندہ کیا گیا۔ یہ منصوبہ کازان کو سال 2026 کے لیے اسلامی ثقافت کا دارالحکومت بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ پیش رفت “امارات اور روس کے درمیان مکالمہ: ثقافت، رواداری اور پُرامن بقائے باہمی” کے عنوان سے منعقدہ نشست کے دوران سامنے آئی۔ اس نشست میں جمہوریہ تاتارستان کے صدر رستم مینیخانوف، متحدہ عرب امارات کے وزیر ثقافت شیخ سالم القاسمی، تاتارستان کے مفتی اعظم شیخ کامل سامیگولین اور روس و امارات کی علمی و مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔
اس تقریب کو خاص اہمیت اس لیے بھی حاصل ہے کہ یہ روس اور عالمِ اسلام کے درمیان بڑھتے ہوئے ثقافتی اور انسانی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ کازان کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی نمایاں کرتی ہے، جو 2026 میں اسلامی ثقافت کے دارالحکومت اور بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمے کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر شیخ کامل سامیگولین نے اعلان کیا کہ “قرآنِ دست نویسِ کازان” تمام شرکاء کو ان کے کازان کے سفر کی یادگار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ تاتاری اسلامی خطاطی کے اس عظیم ورثے کی بحالی کی علامت ہے جو 1917 کے روسی انقلاب کے بعد زوال پذیر ہوگیا تھا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ قرآنِ کریم جدید روسی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا نسخہ ہے۔ اسے تاتاری خطاط آرتور پیسارنکو نے تحریر کیا، جبکہ اس کی نگرانی شیخ مامون الراوی نے کی، جو قرآنی قراءت کے ماہر بھی ہیں۔ اس منصوبے کی تکمیل میں تین سال لگے، جس کے بعد ایک سال تک اس کی علمی جانچ اور توثیق کی گئی۔
منتظمین کے مطابق اس مصحف کی تیاری جدید بین الاقوامی معیارات کے مطابق کی گئی اور اس میں ابتدائی اسلامی ادوار کے 19 تاریخی قرآنی مخطوطات اور قرآنی خطاطی سے متعلق 11 علمی مراجع سے استفادہ کیا گیا۔ اس منصوبے میں ممتاز تاتاری محققین، جن میں شہاب الدین المرجانی اور موسی بگیف شامل ہیں، کے علمی آثار سے بھی فائدہ اٹھایا گیا۔
اس قرآن کے صفحات میں تاتاری شناخت کی علامتی جھلک نمایاں ہے۔ انہیں جمہوریہ تاتارستان کے پرچم کے رنگوں سے مزین کیا گیا ہے، جبکہ سجدہ والی آیات کو کازان کے تاریخی برج سویومبک کی علامت سے مشخص کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ “کازان، اسلامی ثقافت کا دارالحکومت 2026” پروگرام کے تحت مکمل کیا گیا۔
شرکاء نے اس تجربے کو مقامی اسلامی خطاطی کے احیاء، نئی نسل کو قرآنی ورثے سے جوڑنے اور تاتارستان و روس میں اسلامی ثقافت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔/
4352453