مقامی ذرائع کے مطابق، شیخ محمود علی البنّا کا اندازِ تلاوت نہایت منفرد اور دلکش تھا۔ انہوں نے قرآنِ کریم کی قراءت میں ایک ممتاز اسلوب متعارف کرایا اور مصر سمیت دنیا بھر کے لیے قرآنی تلاوتوں کا ایک گراں قدر ذخیرہ یادگار چھوڑا۔
شیخ محمود علی البنّا نے 1984 میں مصری قراء یونین کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور تنظیم کے قیام کے وقت انہیں نائب صدر منتخب کیا گیا۔
انہوں نے 1948 میں محض 22 برس کی عمر میں ریڈیو مصر میں بطور سرکاری قاری شمولیت اختیار کی، یوں وہ اس دور کے کم عمر ترین سرکاری قراء میں شامل ہو گئے۔ ان کی آواز اپنی دلکش نغمگی، تجوید کی درستی اور سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑنے کی غیر معمولی صلاحیت کے باعث منفرد پہچان رکھتی تھی۔
شیخ محمود علی البنّا نے رمضان المبارک کی روح پرور محافل میں مصر کی کئی عظیم مساجد، جن میں مسجد احمدی (طنطا) اور مسجد امام حسینؑ (قاہرہ) شامل ہیں، میں تلاوتِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔
وہ متعدد بین الاقوامی قرآنی وفود اور محافل میں مصر کی نمائندگی بھی کرتے رہے، جبکہ ان کی پُرسوز آواز حرمین شریفین، مسجد اقصیٰ، جامع اموی اور یورپ و ایشیا کی متعدد بڑی مساجد میں گونجتی رہی۔
شیخ محمود علی البنّا 20 جولائی 1985 کو 59 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآنِ کریم کی خدمت، خوبصورت تلاوت، تعلیمِ قرآن اور ملک و بیرونِ ملک مصر کی باوقار نمائندگی کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی خدمات اور یادگار تلاوتیں آج بھی قرآنی دنیا کا قیمتی سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔
اس موقع پر شیخ محمود علی البنّا کی سورۂ نور کی ابتدائی دس آیات کی روح پرور تلاوت پر مشتمل ایک ویڈیو بھی پیش کی گئی ہے۔/
4365185