رائٹرز کے مطابق، بادشاہ چارلس سوم نے اپنے دورے کے دوران مسجد کی تعمیراتی خوبصورتی اور ماحول دوست خصوصیات کی تعریف کی۔
شاہی خاندان کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری کیے گئے بیان میں اس مسجد کو "اعلیٰ معیار کی تعمیر، ماحولیاتی قیادت اور عبادت و سماجی ہم آہنگی کے ایک اہم مرکز" قرار دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ مسجد ماحولیاتی پائیداری کے اصولوں کے مطابق تعمیر کی گئی ہے، جہاں جدید ڈیزائن، توانائی کی بچت کے مؤثر نظام اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو یکجا کیا گیا ہے، جس سے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی ممکن ہوئی ہے۔
کیمبرج سے تقریباً 80 کلومیٹر شمال میں واقع یہ مسجد 2019 میں باضابطہ طور پر کھولی گئی تھی۔ افتتاحی تقریب میں عالمِ اسلام کی مذہبی و سیاسی شخصیات کے علاوہ مقامی حکام نے بھی شرکت کی۔
یہ مسجد معروف برطانوی معمار ڈیوڈ مارکس کے ڈیزائن کا شاہکار ہے اور اسے آج بھی پورے یورپ کی سب سے زیادہ ماحول دوست مسجد تصور کیا جاتا ہے۔
اس عمارت کی انفرادیت اس کے صفر کاربن اخراج کے تصور اور جدید انجینئرنگ پر مبنی ڈیزائن میں ہے۔ چھت میں نصب شیشے کے روشن دان قدرتی روشنی اور ہوا کی بھرپور آمدورفت کو ممکن بناتے ہیں، جس کے باعث برقی پنکھوں یا کولنگ سسٹم کی ضرورت انتہائی کم رہ جاتی ہے۔
معمار ڈیوڈ مارکس کے مطابق، ان کا مقصد کسی دوسری مسجد کی نقل تیار کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا منفرد ڈیزائن پیش کرنا تھا جو مقامی ثقافت، آب و ہوا اور تعمیراتی روایات سے ہم آہنگ ہو۔ ان کے بقول، صدیوں سے دنیا بھر کی مساجد ہمیشہ اپنے مقامی ماحول اور دستیاب تعمیراتی وسائل کے مطابق تعمیر ہوتی آئی ہیں۔

مسجد کا سب سے نمایاں حصہ اس کا لکڑی کا ڈھانچہ ہے، جو خم دار اور متعدد تہوں پر مشتمل صنوبر (Spruce) کی لکڑی سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کی آٹھ پہلوؤں والی مینار اسلامی فنِ تعمیر کی علامت ہے اور "نفسِ الٰہی" (سانس کے تسلسل) کے تصور کی نمائندگی کرتی ہے۔
نماز گاہ کے اوپر نصب چھت گیر روشن دان اندرونی حصے کو قدرتی روشنی سے منور رکھتے ہیں، جس سے ایک نہایت پُرسکون اور روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔
2021 میں کیمبرج سینٹرل مسجد برطانیہ کے رائل انسٹی ٹیوٹ آف برٹش آرکیٹیکٹس کے قومی ایوارڈز حاصل کرنے والے 54 منصوبوں میں واحد مسجد تھی، جسے اس ممتاز اعزاز سے نوازا گیا۔/
4365250