ایکنا نیوز- روزنامہ مکہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الطیبات میوزیم میں موجود یہ نادر مجموعہ ایک ہزار سال سے زائد عرصے پر محیط قرآن کریم کی کتابت اور عربی خطاطی کے ارتقا کی شاندار تاریخ کو پیش کرتا ہے۔
اس قیمتی ذخیرے میں اسلامی تہذیب میں پروان چڑھنے والے مختلف مکاتبِ فن اور خطاطی کی جھلک نمایاں ہے۔ یہاں ابتدائی خطِ کوفی میں تحریر کیے گئے قرآنی نسخوں سے لے کر خطِ نسخ، ثلث، محقق اور ریحانی میں لکھے گئے مصاحف، نیز نہایت نفیس تذہیب سے مزین قرآن کریم کے نسخے موجود ہیں، جو اسلامی تاریخ میں قرآنی کتابت کے فنی ارتقا کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان مخطوطات کی اہمیت صرف ان کی تاریخی قدامت تک محدود نہیں بلکہ یہ قرآن کریم سے مسلمانوں کی گہری وابستگی، کاتبوں اور خطاطوں کی بے مثال مہارت، اور اسلامی فنونِ تذہیب و تزئین کی اعلیٰ روایات کے زندہ شاہد بھی ہیں، جو مختلف ادوار میں اسلامی تہذیب کی علمی اور فنی ترقی کو نمایاں کرتے ہیں۔
میوزیم میں اسلامی تہذیب کے لیے ایک خصوصی شعبہ بھی قائم ہے، جہاں قرآنی مخطوطات کے علاوہ اسلامی فنون کے نادر نمونے، غلافِ کعبہ، اور تانبے، مٹی اور شیشے سے تیار کردہ تاریخی نوادرات بھی محفوظ ہیں۔ یہ تمام ذخیرہ زائرین کو اسلامی ورثے کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرانے کا ایک جامع تعلیمی تجربہ فراہم کرتا ہے۔
الطیبات میوزیم کے بانی عبدالرؤوف خلیل ہیں، اور یہ سعودی عرب کے نمایاں نجی عجائب گھروں میں شمار ہوتا ہے۔ تقریباً 10 ہزار مربع میٹر رقبے پر قائم اس میوزیم میں 120 سے زائد ہال ہیں، جن میں سے ہر ہال دو کمروں پر مشتمل ہے۔ یہاں ہزاروں تاریخی، ثقافتی اور آثارِ قدیمہ کے نوادرات نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں، جو جزیرۂ عرب اور انسانی تہذیبوں کی تاریخ کو محفوظ کرتے ہیں۔
میوزیم میں موجود قرآنی مخطوطات کا یہ عظیم ذخیرہ اسلامی تاریخ میں قرآن کریم کے بلند مقام کو اجاگر کرتا ہے، جبکہ خطاطوں اور کاتبوں کے چھوڑے ہوئے علمی و فنی ورثے کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ یہ نادر خزانہ اس بات کی روشن گواہی ہے کہ صدیوں کے دوران قرآن کریم کی کتابت، حفاظت اور خطاطی کے فن نے کس طرح مسلسل ترقی کی اور اسلامی تہذیب کی ایک درخشاں روایت بن گیا۔/
.



4365841