ایکنا نیوز- ویٹیکن نیوز کے مطابق، فرانس کے شہر سینٹ ایٹین دو روورے کے گرجا گھر کے پادری ژاک ہامل کے قتل کی دسویں برسی کے موقع پر کیتھولک کلیسا کے عہدیداروں نے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان بداعتمادی کو سیاسی اور نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ژاک ہامل کو 26 جولائی 2016ء کو اتوار کی مذہبی عبادت (عشائے ربانی) کے دوران داعش سے وابستہ دو حملہ آوروں نے قتل کر دیا تھا۔ اس حملے میں ایک اور شخص بھی شدید زخمی ہوا تھا۔ اس سانحے کی دنیا بھر میں شدید مذمت کی گئی اور یہ فرانس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی نمایاں علامتوں میں شمار ہونے لگا۔
اس واقعے کی دسویں برسی کے موقع پر سینٹ ایٹین دو روورے سمیت فرانس کے مختلف شہروں میں یادگاری تقریبات، بین المذاہب مکالمے کے پروگرام، نمائشیں اور دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر ژاں فرانسوا بور، جو فرانس کی مجلسِ اساقفہ کے تحت قائم قومی دفتر برائے مسلم تعلقات کے ڈائریکٹر ہیں، نے ویٹیکن نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان مکالمے کی روایت 1950ء کی دہائی سے موجود ہے، تاہم 11 ستمبر 2001ء کے حملوں اور بعد ازاں پادری ژاک ہامل کے قتل نے مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے نئی سوچ کو جنم دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ژاک ہامل کے قتل کے بعد فرانس کے ممتاز مسلم رہنماؤں نے کلیسائی حکام سے ملاقاتیں کیں، جائے وقوعہ کا دورہ کیا، اس دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی اور مسیحی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
ژاں فرانسوا بور کے مطابق، بہت سے مسلمان اس سانحے سے گہرے صدمے میں تھے، کیونکہ ان کے نزدیک اسلام کی حقیقی تعلیمات کا تشدد اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کے بعد مسلمانوں، مسیحیوں اور یہاں تک کہ غیر مذہبی افراد نے بھی علامتی اقدامات، جیسے فن پاروں کا تحفہ دینا، پادری ژاک ہامل کی قبر پر حاضری دینا اور مشترکہ تقریبات میں شرکت کر کے انتہا پسندی کے خلاف اپنے اتحاد کا اظہار کیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج بین المذاہب مکالمے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تصور ہے کہ دنیا کو درپیش موجودہ بحرانوں کے باعث مختلف مذاہب کے درمیان مکالمہ اب کم اہمیت اختیار کر گیا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور موجودہ حالات میں بین المذاہب ہم آہنگی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔/
4366014