ایکنا نیوز- مصری میڈیا کے مطابق وزارتِ اوقاف نے اپنے بیان میں کہا کہ اس منصوبے کو اُس وقت وزارتِ اوقاف کی نگرانی میں مصر کی سپریم کونسل برائے اسلامی امور کے ذریعے عملی جامہ پہنایا گیا، جس نے ممتاز علمائے قراءت کے تعاون سے کتابِ الٰہی کی تعلیم اور اشاعت کے لیے نئے امکانات پیدا کیے۔
وزارت نے واضح کیا کہ یہ عظیم منصوبہ اُس وقت کے شیخ الازہر شیخ محمود شلتوت کی کاوشوں اور لبیب السعید کے وژن کا نتیجہ تھا، جنہوں نے مصر کے سابق وزیرِ اوقاف احمد عبداللہ طعیمہ کے دور میں قرآن کریم کو صوتی شکل میں محفوظ کرنے کا تصور پیش کیا۔
بیان کے مطابق، شیخ محمود خلیل الحصری کو روایتِ حفص عن عاصم کے مطابق قرآنِ کریم کی ترتیل کی ریکارڈنگ کے لیے ایک خصوصی علمی کمیٹی کی نگرانی میں منتخب کیا گیا۔
وزارتِ اوقاف نے مزید کہا کہ یہ ریکارڈنگ بعد میں قرآن کریم کی تلاوت کا بنیادی صوتی حوالہ بن گئی، جس نے صحیح قرآنی تلاوت کے تحفظ اور تحریف کی کوششوں کے سدباب میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مصر کی قرآن کریم کی خدمت میں اس تاریخی پیش رفت کی علامت بھی ہے، جو بعد ازاں دنیا بھر میں دیگر ممتاز مصری قراء کی ریکارڈنگز کی اشاعت سے پہلے انجام پائی۔
وزارتِ اوقاف نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ قرآن کریم کی خدمت کے اپنے مشن کو مختلف منصوبوں اور اقدامات کے ذریعے جاری رکھے گی، جن میں خصوصی طور پر ٹیلی وژن مقابلہ "دولتِ تلاوت"، مراکزِ تعلیمِ قراءت کی ترقی، حفاظِ قرآن کی تربیت اور قرآنی مسابقوں کا انعقاد شامل ہے، تاکہ مصر کی قرآنی شناخت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ شیخ محمود خلیل الحصری مصر کے نامور اور عالمی شہرت یافتہ قاری تھے، جنہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ قرآن کریم کو ترتیل کے انداز میں مکمل طور پر ریکارڈ کیا۔ وہ واحد قاری بھی تھے جن کی دلنشین تلاوت کی گونج امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں بھی سنائی دی۔/
4366023