زیارتِ اربعین امن کے فروغ اور عوامی سفارت کاری کی مؤثر علامت ہے

IQNA

نایجیرین تحریک کے رہنما

زیارتِ اربعین امن کے فروغ اور عوامی سفارت کاری کی مؤثر علامت ہے

7:05 - August 05, 2026
خبر کا کوڈ: 3520544
1
ایکنا: اسلامی شیعہ تحریک نایجیریا کے ایک سینئر رکن نے کہا ہے کہ زیارتِ اربعین فرقہ واریت، نسل پرستی اور دیگر عالمی چیلنجز سے بھرپور دنیا میں امن کے فروغ اور عوامی سفارت کاری کی ایک عمدہ تقریب ہے۔

ایکنا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نائجیریا کی اسلامی شیعہ تحریک کے سینئر رکن اور شیخ زکزاکی کے شاگرد شیخ یعقوب یحییٰ کاتسینا نے اربعین حسینی کے موقع پر زیارتِ اربعین کے فلسفے، اس کی اہمیت اور مختلف ادیان، مذاہب اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی اس عظیم اجتماع میں شرکت کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔

ایکنا: آپ کے نزدیک زائرینِ اربعین کے لیے سب سے اہم آداب کیا ہیں؟

شیخ یعقوب یحییٰ کاتسینا: ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت امام حسینؑ نے اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے قیام فرمایا تھا، اور اصلاح صرف سیاسی تبدیلی کا نام نہیں۔ زیارتِ اربعین میں شریک افراد کو اسلامی اخلاق پر عمل کرنا چاہیے، صبر، ایمان، اخلاص اور ایثار کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے اور امام حسینؑ اور ان کے وفادار ساتھیوں کی سیرت کو اپنے لیے نمونہ بنانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زائرین کو سچائی، امانت داری، نمازِ اول وقت کی پابندی اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ حسنِ سلوک کو اپنانا چاہیے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی نسل، رنگ یا مذہب سے ہو۔ امام حسینؑ پوری انسانیت کے لیے ہیں اور ان سے محبت ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ اسی طرح خواتین، بچوں اور حتیٰ کہ جانوروں سمیت کمزور طبقات کے ساتھ رحم و شفقت کا برتاؤ بھی نہایت اہم ہے۔

ایکنا: مذاہب کے درمیان قربت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد میں اربعین کا کیا کردار ہے؟

حسینی شعائر، بالخصوص اربعین کی پیادہ روی، مختلف ادیان، فرقوں اور مذاہب کے ماننے والوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور اتحاد و یگانگت کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ ہے۔

ایکنا: کیا مختلف ادیان اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی اربعین میں شرکت کو دنیا بھر میں امن کے فروغ کے لیے ایک قسم کی "عوامی سفارت کاری" قرار دیا جا سکتا ہے؟

شیخ یعقوب یحییٰ کاتسینا:  زیارتِ اربعین حقیقی معنوں میں عوامی سفارت کاری کی ایک روشن مثال ہے، جو ایسے دور میں امن کے کلچر کو فروغ دیتی ہے جب دنیا فرقہ واریت، نسل پرستی اور اسلحے کی دوڑ جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر سال لاکھوں افراد کربلا، نجف اور دیگر مقدس مقامات پر جمع ہوتے ہیں، لیکن اس عظیم اجتماع میں جھگڑوں، چوری یا بدعنوانی جیسے واقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ یہ منظر اسلام کے اس اعلیٰ مقصد کی عکاسی کرتا ہے کہ پوری انسانیت ایک خاندان کی مانند امن، ہم آہنگی اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارے۔

انہوں نے آخر میں حضرت امام رضاؑ کا یہ ارشاد نقل کیا: اگر لوگ ہمارے کلام کی خوبصورتی کو سمجھ لیں تو یقیناً ہماری پیروی کریں گے۔/

 

4367395

نظرات بینندگان
captcha