ایکنا نیوز- الجزیرہ نیوز کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ حبیبہ محمد اپنی کم عمری میں والدہ کی شہادت کے بعد صبر، استقامت اور نفسیاتی صدمے پر قابو پانے کی ایک قابلِ تقلید مثال بن گئی ہیں۔ انہوں نے قرآنِ کریم حفظ کرنے میں روحانی سکون اور قلبی اطمینان پایا، اور یہ ثابت کیا کہ کس طرح انہوں نے اپنی شہید والدہ کی جدائی کے درد کو قرآنِ کریم حفظ کرنے کے عزم میں بدل دیا۔ یہ ایک ایسا سفر تھا جس کے لیے برسوں کی مسلسل محنت اور غیر معمولی یکسوئی درکار تھی۔
حبیبہ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی کامیابی کا سب سے بڑا سہرا وہ اپنی رضاعی والدہ (پرورش کرنے والی ماں) کو دیتی ہیں، جنہوں نے انہیں اپنی آغوش میں جگہ دی اور اس مشکل دور میں نفسیاتی، تعلیمی اور اخلاقی معاونت فراہم کی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہی تعاون وہ مضبوط بنیاد بنا جس کی بدولت وہ غزہ کی پٹی میں جاری انتہائی سخت حالات کے باوجود پورا قرآنِ کریم حفظ کرنے میں کامیاب ہوئیں۔
حبیبہ نے مزید کہا کہ مکمل قرآنِ کریم حفظ کرنے کا سفر ہرگز آسان نہیں تھا، لیکن اپنے خواب کو حقیقت بنانے کا عزم تعلیم و تربیت کے دوران پیش آنے والی ہر مشکل سے زیادہ مضبوط ثابت ہوا۔
حبیبہ نے دیگر 600 حفاظِ قرآن کے ساتھ ایک پروقار تقریب میں شرکت کی، جس کا اہتمام ان کی قرآنی خدمات اور محنت کے اعتراف میں کیا گیا تھا۔
یہ تقریب اس بات کی عکاس تھی کہ غزہ کا مؤمن معاشرہ اور اسلامی ادارے، غزہ کے تلخ حالات کے باوجود اپنی علمی و روحانی ترقی کے راستے پر ثابت قدم نوجوان صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کے لیے پُرعزم ہیں۔
منتظم اداروں نے غزہ کے نوعمر حفاظِ قرآن کی حوصلہ افزائی کے لیے اس تقریب کا انعقاد کیا، تاکہ ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزا مثالیں اجاگر کی جا سکیں جو امید اور ایمان کے ساتھ مشکلات پر قابو پا رہے ہیں۔ تقریب کا اختتام والدین کی بھرپور شرکت کے ساتھ ہوا، جنہوں نے اپنے بچوں کی اس عظیم قرآنی کامیابی پر فخر کا اظہار کیا۔/
4366841