ایکنا نیوز- مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یمنی مقاومتی تنظیم انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالملک الحوثی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ یمنی عوام نہ محاصرے کے سامنے سر جھکائیں گے اور نہ ہی دشمن کی دھمکیوں سے مرعوب ہوں گے۔ انصار اللہ محاصرے کے مقابلے میں محاصرہ کی حکمت عملی کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی، جبکہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب مکمل سطح پر کشیدگی بڑھانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
المسیرہ کے مطابق عبدالملک الحوثی نے اپنے خطاب کے آغاز میں عراق پر امریکہ اور سعودی عرب کی حالیہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے عراقی عوام، سکیورٹی اداروں، مزاحمتی قوتوں اور شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب کی جارحیت قابل مذمت ہے اور یمن عراقی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی منصوبہ صرف فلسطین تک محدود نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔ گریٹر اسرائیل منصوبے کے تحت خطے کا نقشہ تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور امریکہ و اسرائیل اسلامی دنیا کی شناخت، وسائل اور آزادی پر قبضہ چاہتے ہیں۔
انصار اللہ کے رہنما نے فلسطین کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی حملے، شہریوں کی شہادت، جبری بے دخلی اور مسجد اقصی کے خلاف خطرناک اقدامات مسلسل جاری ہیں۔ انہوں نے امت مسلمہ پر زور دیا کہ وہ صہیونی جارحیت کے مقابلے میں اپنی دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ادا کرے۔
عبدالملک الحوثی نے کہا کہ یمنی عوام نے برسوں کی جنگ، محاصرے اور حملوں کے باوجود اپنی عسکری صلاحیتوں کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے اور میدان جنگ میں دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ یمن نے فلسطینی عوام کی حمایت میں بھی ہر ممکن کردار ادا کیا اور یہ حمایت آئندہ بھی جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر یمن کے خلاف محاصرہ مزید سخت کر رہا ہے، تاہم یمنی عوام اس دباؤ کے سامنے ہرگز ہتھیار نہیں ڈالیں گے بلکہ اپنے عزم، استقامت اور مزاحمت کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔