ایکنا: عدالت نے پیرس کے قریب واقع مسجد کو تلاوت کے بہانے چھ ماہ کے لیے بند رکھنے کے حکم کی توثیق کر دی ہے۔ اس مقدمے نے اسلامی عقائد اور عبادات پر حکومتی نگرانی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
ایکنا نیوز- مڈل ایسٹ آئی کے حوالے سے رپورٹ ملی ہے کہ فرانس کی ایک عدالت نے پیرس کے قریب واقع شانتلوپ مسجد کی چھ ماہ کی بندش برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاملے نے اسلامی عبادات اور مذہبی عقائد پر ریاستی نگرانی کے بارے میں نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔
مونٹریئل کی انتظامی عدالت نے جمعہ کے روز اولنے سو بوآ میں واقع شانتلوپ مسجد کے خلاف جولائی میں جاری کیے گئے بندش کے حکم کو معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ مسجد جنوری تک بند رہے گی۔
مسجد کی نمائندگی کرنے والے انسانی حقوق کے وکیل رفیق شکات نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا فرانس میں مساجد کے ائمہ اب بھی اسلام کی مقدس کتاب قرآن کریم کی تلاوت کرنے کے لیے آزاد ہیں؟ شکات نے کہا: ’’فرانس میں کیا کوئی امام اب بھی اس مسجد میں قرآن پڑھ سکتا ہے جہاں وہ خطبہ دیتا ہے؟‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے اپنے مقدمے کے ایک حصے کی بنیاد ائمہ کی جانب سے قرآن کریم کی سات آیات کی تلاوت اور اسلامی روایت کی بنیادی کتابوں، جیسے ریاض الصالحین اور چالیس احادیث کے حوالے دینے پر رکھی ہے۔
زیر بحث کتابیں امام نووی کی تصانیف کا حصہ ہیں۔ امام نووی تیرہویں صدی کے ایک شامی عالم تھے جنہیں عالم اسلام کے معروف مفکرین میں شمار کیا جاتا ہے۔
شکات نے مزید کہا: ہم مذہبی آزادی، آزادیِ اظہار اور سیکولرازم کے اصول کے دفاع کے لیے ریاستی کونسل میں اپیل دائر کریں گے۔
حکام نے ان خطبات پر بھی اعتراض کیا جن میں جہنم اور عذابِ قبر کا ذکر کیا گیا تھا اور انہیں کفار کے لیے مخصوص عذاب قرار دیا گیا تھا، حالانکہ ان کے بقول اسی نوعیت کی مذہبی تعلیمات گرجا گھروں اور دیگر عبادت گاہوں میں دی جانے والی مذہبی وعظ و نصیحت میں بھی موجود ہیں۔
ججوں نے فیصلہ دیا کہ سین-سن-دنی کے پریفیکٹ ژولین چارلس نے مسجد کو بند کر کے آزادیِ عبادت یا آزادیِ اظہار کی ایسی سنگین اور واضح طور پر غیر قانونی خلاف ورزی نہیں کی جس کی بنیاد پر حکم کو کالعدم قرار دیا جا سکے۔
شکات نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا: ہم اس فیصلے سے بہت مایوس اور اس کے مندرجات پر انتہائی حیران ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہم ریاستی کونسل سے رجوع کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیصلے کے بعض حصے ’’مذہبی آزادی کے بالکل خلاف‘‘ ہیں۔
ان کا کہنا تھا: میں سمجھتا ہوں کہ انتظامی جج سین-سن-دنی کے پریفیکٹ کے فیصلے کی مخالفت نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اب میرا خیال ہے کہ ریاستی کونسل میں ہمارے امکانات زیادہ بہتر ہوں گے، کیونکہ وہاں معاملہ کچھ زیادہ قانونی اور کچھ کم سیاسی ہوگا۔
یہ فیصلہ اسلامی اداروں پر فرانسیسی حکومت کے کئی برسوں سے جاری بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے۔ فرانسیسی حکام نے اپریل 2022 تک 18 ماہ کے دوران 22 مساجد بند کی تھیں۔
حکومت نے بعض اسلامی تنظیموں کو بھی تحلیل کیا ہے، جن میں فرانس میں اسلاموفوبیا کے خلاف اجتماعی تنظیم (CCIF) اور فلاحی ادارہ باراکا سٹی شامل ہیں۔ ان اقدامات کے باعث یہ خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ فرانس مسلمانوں کی آزادیِ عقیدہ کو محدود کرنے کے لیے سکیورٹی قوانین کا استعمال کر رہا ہے۔
ایک سروے کے مطابق، فرانس میں ہر دس میں سے آٹھ مسلمان شدید نوعیت کی نفرت یا دشمنی کا سامنا کرتے ہیں۔/
4368805