ایکنا: مری بتول الطعمہ نے اپنی زندگی برطانیہ میں نومسلموں کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ انہیں 2026ء میں طویل مدتی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ایکنا نیوز- مسلم نیوز کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ مغربی ممالک میں اسلام قبول کرنے والے افراد کی داستانیں سننے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے خاصی تعداد، خصوصاً خواتین، اسلام قبول کرنے کے فیصلے کے بعد اہم مشکلات کا سامنا کرتی ہے۔ بعض افراد اپنے اہل خانہ یا دوستوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات سے دوچار ہوتے ہیں، جبکہ کچھ دیگر اسلام قبول کرنے کی ابتدائی خوشیوں اور تقریبات کے بعد خود کو تنہا اور بے سہارا محسوس کرتے ہیں۔
ایسے حالات میں مری بتول الطعمہ کی خدمات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی برطانیہ میں نئے مسلمانوں کی خدمت کے لیے وقف کر دی ہے۔ اس عزم کا 6 جولائی 2026ء کو ایک اہم مرحلہ اس وقت آیا جب انہیں برطانوی اخبار مسلم نیوز کی جانب سے اس شعبے میں تین دہائیوں سے زائد عرصے تک مسلسل خدمات انجام دینے پر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔
الطعمہ فاؤنڈیشن فار نیو مسلمز کی بانی اور بورڈ آف ٹرسٹیز کی رکن ہیں، جسے انہوں نے 2019ء میں قائم کیا تھا۔ تاہم نومسلموں کی خدمت کا یہ سفر دراصل 1993ء میں شروع ہوا، جب انہوں نے لیسٹر اسلامک فاؤنڈیشن میں نومسلموں کے منصوبے کی سربراہی سنبھالی۔
ان برسوں کے دوران انہوں نے «Meeting Point» نامی رسالہ بھی قائم کیا اور اس کی ادارت کی۔ یہ رسالہ نومسلموں کی خدمت کے لیے مختص ہونے والا پہلا رسالہ بن گیا۔
یہ رسالہ مسلمانوں کے لیے دنیا بھر میں روحانی مرکز اور ملاقات کے مقام خانہ کعبہ سے متاثر ہو کر شروع کیا گیا تھا۔ کئی دہائیوں تک اس میں رہنمائی، مسلم معاشرے سے متعلق خبریں اور حوصلہ افزا پیغامات شائع ہوتے رہے۔ یہ رسالہ 25 سال سے زائد عرصے تک برطانیہ کی جیلوں میں بھی تقسیم کیا جاتا رہا اور ان قیدیوں کی مدد کرتا رہا جو دورانِ قید اسلام قبول کرتے تھے۔
مری بتول 1955ء میں شہر کے مضافاتی علاقے میں ایک مذہبی اور کیتھولک آئرش خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ایک بورڈنگ اسکول میں مکمل کی اور اس کے بعد ڈبلن منتقل ہوگئیں۔ 1970ء کی دہائی میں وہاں ان کی ملاقات ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے مسلمان طلبہ کے ایک گروپ سے ہوئی۔
وہ ان طلبہ کی متین شخصیت، اچھے اخلاق اور مضبوط سماجی روابط سے بہت متاثر ہوئیں۔ چنانچہ کئی برس تک ان کی مذہبی نشستوں میں شرکت کرتی رہیں اور ان کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیال کرتی رہیں۔ بالآخر انہوں نے 1979ء میں اسلام قبول کر لیا۔
نومسلموں کی خدمت کے 25 سال
مری بتول نے 25 سال تک نومسلموں کے منصوبے کی قیادت کی اور ہزاروں نومسلموں کو عملی رہنمائی، تعلیم اور نفسیاتی مدد فراہم کی۔ یہ منصوبہ ان افراد کے لیے ایک قابلِ اعتماد ذریعہ بن گیا جو دینی معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے یا خاندان کی تشکیل، اسلامی شناخت کے فروغ اور مسلم معاشرے میں انضمام کے لیے مدد کے محتاج تھے۔
مری بتول کا کردار صرف عملی خدمات تک محدود نہیں رہا بلکہ ان کی کوششوں سے برطانیہ میں اسلام قبول کرنے کے رجحان اور اس کے سماجی پہلوؤں کے بارے میں عوامی آگاہی اور سمجھ بوجھ میں بھی اضافہ ہوا۔
نئے مسلمانوں کے منصوبے کے ساتھ 25 سال کام کرنے کے بعد مری بتول نے فاؤنڈیشن فار نیو مسلمز کے ذریعے اپنا مشن جاری رکھا۔ یہ ادارہ انہوں نے 2019ء میں برطانیہ بھر میں نئے مسلمانوں کی حمایت کے لیے مختص ایک قومی تنظیم کے طور پر قائم کیا تھا۔/
4368636