بنگلہ دیشی نابینا جوان سعودی قرآنی مقابلے کے آخری مرحلے میں

IQNA

5:44 - August 11, 2026
خبر کا کوڈ: 3520569

بنگلہ دیشی نابینا جوان سعودی قرآنی مقابلے کے آخری مرحلے میں

ایکنا: محمود حسن اشرفی ، 18 سالہ نابینا نوجوان حافظِ قرآن ، سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی ملک عبدالعزیز مقابلے کے آخری مرحلے میں پہنچ چکے ہیں۔

1

ایکنا نیوز- سعودی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ 18 سالہ نابینا بنگلہ دیشی نوجوان محمود حسن اشرفی نے محنت اور سماعت کے ذریعے قرآن کریم حفظ کیا ہے۔ وہ سعودی وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کے زیر اہتمام مسجد الحرام میں منعقد ہونے والے 46ویں بین الاقوامی ملک عبدالعزیز قرآن حفظ، تلاوت و تفسیر مقابلے کے آخری مرحلے میں شریک ہیں۔

اشرفی اس مقابلے کے تیسرے شعبے میں حصہ لے رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ابتدائی مراحل میں حصہ لینے والے تقریباً 2 ہزار مرد و خواتین شرکا میں سے وہ کامیاب ہو کر بالآخر ان 20 منتخب افراد میں شامل ہوئے جنہیں سعودی عرب میں ہونے والے آخری مرحلے میں شرکت کے لیے اہل قرار دیا گیا۔

اشرفی پیدائشی طور پر نابینا ہیں۔ انہوں نے 7 سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرنا شروع کیا اور مختلف قرّاء کی تلاوتیں سننے اور آیات کو بار بار دہرا کر یاد کرنے کے ذریعے صرف تین سال میں مکمل قرآن حفظ کر لیا۔ اس دوران ان کے والد نے بھی حفظ اور دَور کے مراحل میں ان کی رہنمائی اور بھرپور معاونت کی۔

انہوں نے مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کے اپنے پہلے سفر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پہنچنا اور دنیا کے نمایاں ترین بین الاقوامی قرآنی مقابلوں میں سے ایک میں شرکت کرنا ان کا دیرینہ خواب تھا۔

اشرفی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی نابینائی قرآن کریم کے ساتھ اپنے سفر کو جاری رکھنے میں رکاوٹ نہیں بنی۔ ان کے بقول، عزم اور مسلسل محنت کے ذریعے مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ 46واں بین الاقوامی ملک عبدالعزیز قرآن حفظ، تلاوت و تفسیر مقابلہ جمعرات 15 مرداد کو مکہ مکرمہ میں شروع ہوا۔

یہ مقابلہ 6 ربیع الاول (19 اگست) تک جاری رہے گا۔ اس میں مجموعی طور پر 133 ممالک سے 334 مرد و خواتین شریک ہیں، جو اس مقابلے کی تاریخ میں شرکا کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

اس مقابلے کا مقصد نوجوان مسلمانوں کو قرآن کریم حفظ کرنے، اسے سمجھنے اور اس میں تدبر کرنے کی ترغیب دینا اور منصفانہ مسابقت کا ماحول فراہم کرنا ہے۔

مقابلہ پانچ شعبوں پر مشتمل ہے اور اس کے مجموعی انعامات کی مالیت 1 کروڑ 26 ہزار سعودی ریال ہے، جو اس مقابلے کے آغاز کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی انعامی رقم ہے۔/

 

4368841

نظرات بینندگان
captcha