عالمی مجاہد شیخ محمد سعید کعباش قرآنی خادم تھے

IQNA

5:50 - August 11, 2026
خبر کا کوڈ: 3520571
عالمی علماء الاینس:

عالمی مجاہد شیخ محمد سعید کعباش قرآنی خادم تھے

ایکنا: عالمی علماء مسلمین کے سربراہ علی قرہ داغی نے عالم و مجاہد شیخ محمد سعید کعباش کے انتقال پر الجزائر کے عوام اور امت مسلمہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

1

ایکنا نیوز- Al24 News  نیوز کے مطابق عالمی اتحاد علمائے مسلمین نے کہا ہے کہ شیخ محمد سعید کعباش کا انتقال الجزائر کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ وہ ایسی شخصیت تھے جنہوں نے علم، دعوت، تعلیم، اصلاح، جہاد اور اپنے وطن کی خدمت کو یکجا کیا۔

اتحاد نے کہا کہ قرآن کریم ان کی زندگی، فکر اور علمی و عملی سرگرمیوں کا محور تھا، جس کا اثر ان کی تحریروں، ان کے شاگردوں اور ان نسلوں میں نمایاں ہے جنہیں انہوں نے تعلیم و تربیت دی۔

عالمی اتحاد علمائے مسلمین نے شیخ محمد سعید کعباش کے چھوڑے ہوئے مفید علمی ورثے اور ان کی دیرپا خدمات کو یاد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کی قرآنی، علمی اور دعوتی سرگرمیوں سمیت وہ تمام تعلیمات جو انہوں نے آنے والی نسلوں تک پہنچائیں، ان کے میزانِ حسنات میں شامل فرمائے اور انہیں بہترین اجر عطا کرے۔

اتحاد نے مزید دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی وسیع رحمت میں جگہ دے، ان کے درجات بلند فرمائے، علم، دعوت، اصلاح اور جہاد کے لیے انہیں اجر عطا کرے اور انہیں صالحین، انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ محشور فرمائے۔

شیخ محمد سعید کعباش علم اور قرآنی مطالعات کے ممتاز عالم اور الجزائر کے صوبہ غردایہ کے شہر العطف اور وادی مزاب کی اہم علمی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ جمعہ 16 مرداد کو 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

انہوں نے اپنی زندگی کتاب اللہ کی خدمت، تعلیم اور سماجی اصلاحات کے لیے وقف کر دی تھی۔ وہ ایک ایسا علمی اور فکری ورثہ چھوڑ گئے جو اس شخص کی زندگی کی گواہی دیتا ہے جس نے علم کو اپنا مشن اور قرآن کو اپنی ہدایت اور زندگی کا چراغ بنایا۔

ان کی اہم تصانیف میں معروف تفسیر «نفحات الرحمن فی ریاض القرآن»، یعنی ’’قرآن کے باغوں میں رحمان کی ہوائیں‘‘، شامل ہے۔ یہ کتاب تفسیر قرآن کے میدان میں ایک نمایاں علمی کاوش شمار ہوتی ہے اور کئی دہائیوں تک علم حاصل کرنے، تدریس، دعوت اور اصلاح کے لیے کی جانے والی ان کی کوششوں کا نچوڑ ہے۔

شیخ محمد سعید کعباش کے انتقال پر الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون نے بھی مرحوم کے اہل خانہ اور الجزائر کے عوام کے نام تعزیتی اور ہمدردی کا پیغام بھیجا۔

انہوں نے اس مرحوم قرآنی عالم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ الجزائر نے سماجی اصلاح کے ایک ایسے مجاہد کو کھو دیا ہے جس نے اپنی زندگی رواداری کی اقدار اور قومی اتحاد کے تحفظ کے لیے وقف کر دی تھی۔/

 

3498592

نظرات بینندگان
captcha