گيارہ ستمبر ! كيا حقائق كبھی سامنے آسكیں گے ؟

IQNA

گيارہ ستمبر ! كيا حقائق كبھی سامنے آسكیں گے ؟

9:26 - September 18, 2006
خبر کا کوڈ: 1497633
بين الاقوامی گروپ :پانچ سال قبل گيارہ ستمبر سنہ 2001 كو دو مسافر طياروں كے نيويارك میں عالمی مركز تجارت كی جڑواں عمارتوں اور تيسرے طيارے كے واشنگٹن میں پينٹاگون كی عمارت سے ٹكرانے سے امريكہ كی تاريخ میں دہشت گردی كا سب سے بڑا واقعه رونما ہوا .

پانچ سال قبل گيارہ ستمبر سنہ 2001 كو دو مسافر طياروں كے نيويارك میں عالمی مركز تجارت كی جڑواں عمارتوں اور تيسرے طيارے كے واشنگٹن میں پينٹاگون كی عمارت سے ٹكرانے سے امريكہ كی تاريخ كا سب سے بڑا دہشت گردانہ واقعہ رونما ہوا ۔امريكی ذرائع ابلاغ نے گيارہ ستمبر كے حملوں كو 1941 میں پيرل ہاربر پر جاپانيوں كے حملے سے مشابہ قرارديا جس كی وجہ سے امريكہ دوسری جنگ عظيم میں وارد ہوا تھا ۔گيارہ ستمبر سنہ 2001 كے واقعات كے محركات اوراسباب كے بارے میں متعدد نظريات پيش كئےگئے ہیں ايك اہم نظریہ یہ بھی ہے كہ گيارہ ستمبر كے واقعات میں صیہونی جاسوس تنظيم موساڈ ملوث ہے ۔امريكی حكومت نے القاعدہ تنظيم اور اس كے سربراہ اسامۃ بن لادن كو ان واقعات كا ذمہ دار قرارديا ہے ۔امريكی حكومت پر تنقيد كرنے والے بعض افراد كا خيال ہے كہ امريكہ كے قدامت پسند دھڑے نے پس پردہ القاعدہ كو گيارہ ستمبر كے حملے كرنے پر اكسايا تھا ان مبصرين كا خيال ہے كہ امريكی جنگ پسند ٹولہ ايك مدت سے امريكہ كے باہر اپنی جنگ پسندانہ پاليسيوں كو عملی جامہ پہنانے كے لئے مناسب موقع كی تلاش میں تھا اور اسی ضمن میں امريكہ میں شديد حفاظتی انتظامات كرنا چاہتا تھا ۔اسی بنا پر جديدترين جاسوسی كے آلات اور طريقوں كی حامل ہونے كے باوجود امريكی حكومت گيارہ ستمبر كے واقعات كو روكنے میں ناكام رہی يا اس نے كوشش ہی نہیں كی۔بہرحال اس بات سے قطع نظر كہ مشرق وسطیٰ كے انيس باشندوں نے امريكہ میں چار مسافر طيارے اغوا كرنے میں كس طرح كاميابی حاصل كی گيارہ ستمبر كے بعد كے نتائج نہايت اہميت كےحامل ہیں گيارہ ستمبر كےواقعات نے امريكی صدر بش كوايك كمزور اور جنگ پسند صدر بناديا جو مشكوك طرح سے صدارت پر پہونچے ہیں ۔امريكی انتظامیہ كے جنگ پسند ٹولے نے پيشگی حملے كا نظریہ پيش كرتے ہوئے پہلے افغانستان پرحملے كركے قبضہ كيا اس كے بعد عراق كو اپنی جارحيت اور قبضے كا نشانہ بنايا ،اس كے علاوہ امريكی حكومت نے دہشت گردی كےخلاف نام نہاد جد وجہد كے بہانے عالمی قوانين ،جنيوا كے كنونشن ،اينٹی ميزائيل دفاعی ميزائيل سسٹم بنانے كے معاہدے اور عالمی فوجداری عدالت كے منشور كی خلاف ورزی كی ہے۔بغداد كی ابوغريب اور گوانتانامو جيلوں میں امريكی فوجيوں كی وحشيانہ كارروائياں گيارہ ستمبر كے منفی نتائج كا ايك نہايت چھوٹا نمونہ ہے ۔امريكہ میں داخلی سطح پر بھی قدامت پسند ٹولے نے گيارہ ستمبر كے بعد كے حالات سے پوراپورا فائدہ اٹھاتے ہوئے شديد ترين حفاظتی انتظامات كرنے شروع كردئے جن كی دوسری جنگ عظيم كے بعد كوئی مثال نہیں ملتی ان پانچ برسوں میں امريكی سيكورٹی ايجنسيوں نے عام شہريوں كے تين سو ملين ٹيليفون ٹيپ كئے ہیں اور آئين كے برخلاف عام شہريوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلايا گيا ہے ،امريكی حكام كی بوكھلاہٹ كا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے كہ كتب خانوں سےلی گئی كتابیں اور ايميل و غيرہ بھی ايف بی آئی كی جاسوسی سے محفوظ نہیں رہے ۔بہرحال اب جبكہ امريكہ میں گيارہ ستمبر كے واقعات كو پانچ سال كا عرصہ گذرچكا ہے ان واقعات كے حقائق كو جان بوجھ كر سامنے نہیں لايا جارہا ہے اسی بنا پر بعض مبصرين كا خيال ہے كہ جس طرح جان آف كينڈی كے قتل كے محركات اب تك صيغۂ راز میں ہیں گيارہ ستمبر كے واقعات كے محركات كوبھی كبھی آشكار نہیں كيا جائے گا بلكہ یہ امريكہ كی تاريخ میں دفن ہوكر رہ جائیں گے ۔



نظرات بینندگان
captcha