ایکنا نیوز- فلسطینی مرکز اطلاعات کے حوالے سے فلسطینی مزاحمتی کمیٹیوں نے کہا ہے کہ غزہ کے عوام کی جانب سے تین سال بعد شہداء کے ایک گروہ کو شاندار انداز میں الوداع کہنا، فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کی جنگ کی ہولناک حقیقت کا زندہ ثبوت اور اسرائیلی حکومت کے بے مثال جرائم کی ناقابلِ تردید گواہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ شہداء کی تشییع کے مناظر نے اسرائیلی حکومت کی غیر معمولی مجرمانہ کارروائیوں کے مختلف پہلوؤں کو پوری دنیا کے سامنے نمایاں کر دیا۔
مزاحمتی کمیٹیوں نے مزید کہا کہ شہداء کی لاشوں کا طویل عرصے تک ملبے تلے دبے رہنا اور انہیں جان بوجھ کر باہر نہ نکالنے دینا، اسرائیلی حکومت اور اس کے حامیوں کے سیاہ جرائم نامے کا ایک اور باب ہے، جو بچوں، خواتین اور بزرگوں کے خون سے رنگا ہوا ہے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ اسرائیلی حکومت انسانیت کے خلاف بدترین جرائم کے ارتکاب سے بھی نہیں ہچکچاتی، جبکہ عالمی برادری کی شرمناک خاموشی اور بین الاقوامی اداروں کی واضح ناکامی نے ان مظالم کو روکنے اور ذمہ داروں کا احتساب کرنے میں کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔
فلسطینی مزاحمتی کمیٹیوں نے کہا کہ یہ خاموشی اور بے عملی درحقیقت فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کی جنگ کو سیاسی اور اخلاقی تحفظ فراہم کر رہی ہے۔
منگل، چار اگست کو غزہ کے عوام نے ابوشریعہ اور الحساینہ خاندانوں کے 112 شہداء کی نمازِ جنازہ اور تشییع میں شرکت کی۔ اس تقریب کو فلسطین کی تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی تشییع قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ شہداء 22 نومبر 2023ء کو اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے رہائشی کمپلیکس کے ملبے سے نکالے گئے۔ اس حملے میں 308 فلسطینی شہید ہوئے تھے۔ متعدد شہداء کی لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، جبکہ شدید بمباری کے باعث بعض شہداء کے جسدِ خاکی کا کوئی نشان بھی باقی نہیں رہا۔
یہ سانحہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں کے دوران پیش آنے والے انتہائی دردناک اور المناک قتلِ عام میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔/
4368121