حضرت امام علی علیہ السلام اس سے خوش ہوتے تھے جو لوگوں كے حقوق ادا كرتا تھا-

IQNA

محقق حسن جمشيدی:

حضرت امام علی علیہ السلام اس سے خوش ہوتے تھے جو لوگوں كے حقوق ادا كرتا تھا-

8:21 - October 19, 2006
خبر کا کوڈ: 1503666
فكر و نظر گروپ: تاريخ اسلام كا جاﺋزہ لينے سے معلوم ہو جاتا هے كہ رسول اللہۖ كے بعد سب سے افضل علیۜ بن ابی طالب ہیں-

اور تمام لوگ ان كی افضليت كا اعتراف كرتے ہوۓ نظر آتے ہیں
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے محقق حسن جمشيدی سے نقل كيا ہے كہ حضرت علی علیہ السلام ايك راستے سے گذر رہے تھے تو ديكھا كہ ايك كنيز گریہ كر رہی ہے حضرت علی ۜ نے اس سے گریہ كا سبب پوچھا تو اس نے جواب ديا كہ مير ےمالك نے مجھے كھجور خريدنے كے لیے ايك درھم ديا تھا –میں كھجور خريد كر كے اپنے مالك كے پاس لے گئی تو اس كو كھجور پسند نہیں آئی اور میں اسے دوكان دار كے پاس لے گئی تو اس نے بھی واپس لينے سے انكار كرديا –
یہ سن كر امام علیۜ اس كنيز كے ساتھ دوكان دار كے پاس آۓ اور فرمايا كہ یہ كنيز ہے تم اس سے اپنی كھجور لے لو اور اسے ايك درھم واپس كردو یہ سن كر دوكاندار اپنی جگہ سے اٹھتا ہے اور حضرت علی كی شان میں ناقابل برداشت گستاخی كا ارتكاب كرتا ہے –یہ ماجرا ديكھ كر لوگ آگے بڑھے اور دوكان دار سےكہا اے شخص تو نے یہ كيا غضب كرديا كيا تجھے معلوم نہیں یہ امير المومنينۜ ہیں-
یہ سن كر دوكاندار كے قدموں میں رعشہ لہجہ میں كپكپی اور بدن میں تھرتھری طاری ہوجاتی ہے اور فورا كھجور كنيز سے واپس ليتا ہے اور ايك درھم اسے دے ديتا ہے اور آقا كے حضور میں دست بستہ عرض كرتا ہے اے امير المومنين مجھے معاف كرديجۓ-
تو خلق عظيم كے مالك امام نے فرمايا : اپنے كاموں كی اصلاح اور لوگوں كے حقوق كی اداﺋيگی كے بغير ہماری رضايت اور خوشنودی حاصل نہیں كی جاسكتی

نظرات بینندگان
captcha