ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے نسيج ساﺋیٹ سے نقل كيا ہے كہ مصری دارالافتاء كے عہدہ داروں نے اپنے بيان میں وضاحت كی ہے كہ دنيا میں قبايلی اور مذھبی اختلافات بڑھ رہے ہیں اور ايسی صورتحال میں عراقی علماء كا اس معاہدہ پر دستخط كرنا بہت اھم اقدام ہے اور اس قرار داد پر دستخط كرنے سے عراق میں موجودہ فضا بہتری كی طرف پيشرفت كرے گی-
انہوں نے كہا كہ اب وقت آچكا ہے كہ مسلمان آپس كے اختلافات كو بالاۓطاق ركھتے ہوۓ اتحاد اور فرقہ واريت سے دوری اختيار كریں اور پيغمبر گرامی اسلامۖ كے اس فرمان كو ملحوظ خاطر ركھتے ہوۓ كہ مسلمان كا خون بہانا حرام ہے ٫٫كشت و كشتار كو بند كریں –
ياد رہے كہ قرار داد مكہ پر جمعہ كے دن ۲۷ رمضان المبارك كو عراقی شيعہ اور سنی علماء نے قتل وغارت كے خاتمہ كے لیے مسجد الحرام میں دستخط كیے-