الحمد للہ رب العالمين ، الصلاة والسلام علی رسولہ الكريم و آلہ الطيبين الطاھرين اما بعد :
يا ایھا الذ ين آمنوا اتقوا اللہ و ابتغوا الیہ الوسيلة۔(۱)
(اے ايمان والو ! اللہ سے ڈرو اور قرب خدا كا وسيلہ تلاش كرو )(۲)
ليكن سوال یہ ہيكہ خدا وند عالم كا قرب كس طرح حاصل كریں ؟
اس سلسلہ میں مولانا اشرف علی تھانوی صاحب ”بيان القرآن میں اس طرح لكھتے ہیں
”۔۔۔(اطاعت كے ذريعہ )خدا تعالی ٰ كا تقرب ڈھو نڈو(۳)
وہابی علما ء كہتے ہیں كہ ”نيك اعمال كے ذريعہ يعنی نماز پڑھنا ، روزے ركھنا ،زكوٰة دينا ، حج كرنا وغيرہ ۔۔۔یہ سب تقرب الھی كا ذريعہ ہیں “
ليكن وہابی علماء یہ بھول گئے كہ خدا وند عالم نے كچھ اور بھی نيك اعمال كا تذكرہ كيا ہے ان میں سے یہ بھی ہے كہ خدا وند عالم كی نشانيوں كی تعظيم كرنا ۔
خدا وند عالم كی نشانيوں میں صفاء و مروہ ، ناقہ صالح ، وہ اونٹ جو منیٰ كے ميدان میں قربانی كے لئے لے جايا جاتا ہے ( اس كی تعظيم یہ ہے كہ اس قربانی كے اونٹ سے كوئی كا م نہ ليا جائے اور وقت پر چارہ ديا جائے )اصحاب كہف كا شمار بھی اللہ كی نشانيوں میں ہوتا ہے (۴)
اور جو ان نشانيوں كا احترام نہ كرے اور ان كی تكذيب كرے اس كے لئے خدا وند عالم نے جہنم كو تيار كر ركھاہے (۵)
چنانچہ خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے :يا ایھا الذين آمنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبی (ص)
(ترجمہ :ايمان والو خبر دار اپنی آواز كو نبی(ص) كی آواز پر بلند نہ كرو (۶)
”يعنی ہمارے حبيب سے گفتگو كرتے وقت تعظيم كاخيال ركھنا بھی تقرب الھیٰ كاذريعہ ہے “اگر كوئی اپنے كو رسول (ص) كے غلاموں میں ادنیٰ غلام ظاہر كرے تو اللہ اس شخص سے اتنا خوش ہوگا كہ اس كو فضيلتوں كا پيكر بنا كر علی (ع) ابن ابی طالب بنا ديگا
رسول اللہ كی تعظيم كرنا بھی نيك اعمال میں سے ايك عمل ہے ۔
تقرب الھی كے اسباب میںسے ايك سبب یہ ہيكہ ”مسلمانوں كو اعمال كے ساتھ انبياء اور اولياء كا وسيلہ بھی ڈھونڈنا چاہئے “(۷)
اس لئے كہ اولےاء اور انبياء ہی خدا تك پہونچنے كے دو ذريعے ہیں اور ان سے متمسك رہنا تقرب الھی كا ذريعہ ہے ۔
پھر صاحب تفسير نور العرفان وسيلہ كے سلسلہ میں يوں لكھتے ہیں ”كوئی متقی مومن بغير وسيلہ كے رب تك نہیں پہونچ سكتاہے “(۸)
مندرجہ بالا بيان سے ثابت ہوتا ہے كہ انسان كو خداكی بارگاہ میں وسيلہ ضرور قرار دينا چاہئے یہ امر مسلم ہيكہ اللہ نے پيغمبر اكرم كو تمام انبيا ء پر فضيلت اور عظمت بخشی ہے اب سنت كا دم بھرنے والے ذرا سا غور و فكر كریں كہ جب خدا وند عالم نے اپنے حبيب حضرت محمد مصطفی سے گفتگو كرتے وقت اتنی تاكيد كی ہے تو پھر اگر خود رسول اسلام كسی كی تعظيم كے لئے كھڑے ہو جائیں اور اپنی جگہ پر بٹھائیں تو اس كی عظمت كا كون اندازہ لگا سكتا ہے ۔
علماء اہلسنت نے اس شخصيت كا نام فاطمہ (س ) لكھا ہے اور اپنی مختلف كتابوں میں مندرجہ بالا حديث كو نقل كيا ہے ۔
مگر افسوس !كہ رسول كی آنكھ بند ہوتے ہی امتی ، رسول كی لاڈلی بیٹی فاطمہ (س)كے دروازے پر آگ لے كر آگئے اور ظلم كی انتہا كردی یہی نہیں بلكہ مرنے كے بعد بھی آپ كو آزار واذيت پہونچا نے كی ہر ممكن كوشش كی گئی چناچہ :
۱۳۴۴ میں جب آل سعودنے مكہ ومدينہ كے گرد و نواح میں اپنا پورا تسلط جما يا تو مقدس مقامات ،جنت البقيع ، اصحاب اور خاندان رسالت كے آثار كو صفحہ ہستی سے محو كر دينے كا عزم كيا (۹)
رسول كے زمانے نے اس طرح كروٹ بدلی كہ حضرت امير المونين (ع) علی (ع) كے حق كو غصب كر ليا گيانبی كی بیٹی فاطمہ (س)كو مرثیہ پڑھنا پڑا ،بعد رسول امام حسن (ع) كو زہر ديا گيا اور وہ حسين (ع) جس كی وجہ سے رسول نے سجدہ كو طول ديا تھا رسول جس كے گلہ كا بوسہ ليتے تھے ان ہی كا كلمہ پڑھنے والوں نے سجدے كی حالت میں امام حسين (ع) كا سر كاٹ كر نوك نيزہ پر چڑھاديا ۔
اور اب ظالم (صدام )نے یہاں تك ظلم كيا كہ امام حسين (ع) كے روضہ كی ہر طرح بے حرمتی كی ۔
یہ سب كيوں ہو ا؟
عام طورپر یہ ديكھا گيا ہيكہ اگر كسی كو كسی سے دشمنی ہوتی ہے تو مرنے كے بعد وہ دشمنی بھی ختم ہو جاتی ہے ،ليكن اہلبيت (ع) كے
دشمن ، آج تك سر گرم عمل ہیں ،اس كی وجہ ےہ ہے كہ اہل بيت (ع) كا وہ عظيم كردار ہے جو لوگوں كو اپنا گرويدہ كئے ہوے ہے اور اس كے آثار آج تك ظالم اور استعمار سے دشمنی كی شكل میں موجود ہیں لہٰذا پوری دنيا كے ظلم اور استعمار ہر ممكن طريقہ سے اہل بيت (ع) اور عوام كے درميان پائے جانے والے رابطوں كو نابود كرنا چاہتے ہیں جس كے لیے قسم قسم كے ہتھكنڈے استعمال كئے جا تے ہیں۔
انہیں میں سے ايك ہتھكنڈہ اہل بيت (ع) كی قبروں كا نام ونشان مٹادينا ہے ،تاكہ ان میں اور عوام میںپائے جانے والے روحانی رابطے منقطع ہو جائیں
یہ بات روز روشن كی طرح عياں ہے كہ دشمنان اہل بيت (ع) نے ہميشہ اہل بيت(ع) كو صفحہ ہستی سے ہی ختم كرنا چاہا اور آج بھی یہ كوششیں جاری ہیں ۔
اب چاہے قبور كو منہدم كرنا پڑے يا دين احمدمیں تحريف كركے شرك اور بدعت كے فتوے صادركرنا پڑیں ۔
جيسے دشمن اہل بيت (ع)،ابن تيمیہ كے مشہور شاگرد ابن القيم نے اولياء خدا نيز پيغمبروں كی قبور پر عمارت بنانا حرام قرار ديا ہے وہ اپنی كتاب ”زاد المعادفی ھدیٰ خير العباد “میں لكھتا ہے كہ :
قبروں پر تعمير شدہ عمارتوں كو ڈھانا واجب ہے اگر انہدام اور ويرانی ممكن ہو تو ايك دن بھی تاخير كرنا جائز نہیں ہے ۔
سورہ حجرات آيت ۲ كے تحت وہابی علماء نے رسول كی تعظيم كا خيال نہیں ركھا يعنی رسول كی زيارت كو شرك اور بدعت ثابت كيا ہے (جبكہ زيارت رسول كے لئے بڑے بڑے جليل القدر صحابہ جايا كرتے تھے ) اور رسول كا اس طرح دل دكھا يا كہ آل رسول كے مزار جو جنت البقيع میں تھے ان كو بے سایہ كر ديا اور یہ امر مسلم ہے كہ رسول كا دل دكھانا عذاب الھی كا ذريعہ ہے ۔
انہدام جنت البقيع كے لئے علماء وہابی نے كچھ ضعيف روايا ت كا سہارا ليا ہے اس پر استاد محترم آية اللہ جعفر سبحانی نے چند احاديث بيان كر كے روشنی ڈالی ہے جن میں سے ايك یہ ہے:عن جابر قال :نھی عن تجصيص القبور ۔(ترجمہ :پيغمبر اسلام نے قبور كی گچ كاری سے منع كيا ہے )۔
یہ حديث مختلف اسناد ، مختلف صورتوں سے كتاب صحيح مسلم ،باب الجنائز ج ۳ ص ۶۲ پر نقل ہوئیں ہیں بحاولہ آئين وہابيت ۔
اور اسی طرح یہ حديث مختلف صوتوں سے صحاح اور سنن میں نقل كی گئی ہیں ۔
استاد محترم یہاں پر تبصرہ كرتے ہوئے لكھتے ہیں كہ جابر كی اس حديث میں متعدد نقائص پائے جاتے ہیں لہٰذا اس سے استدلال ناممكن ہے كيوں كہ اولا حديث كی تمام اسناد میں ابن جريح اور ابو زبير كا نام كبھی تنہااو ر كبھی باہم ذ كر ہو ہے اگر چہ ان میں سے بعض دوسرے راوی بھی ضعيف و مجہول ہیں ليكن پھر بھی ان دو افراد كی حقيقت كا پتہ چل جانے كے بعد باقی راويوں كے متعلق بحث و گفتگو كی ضرورت نہ ہو گی ۔
ابن حجر اپنی كتاب تہذيب التہذيب میں ابن جريح كے متعلق علماء رجال سے یہ جملہ نقل كرتے ہیں يحيی ٰ بن سعيد كہتے ہیں
اگر ابن جريح كتاب سے حديث نقل نہ كرتے تو ہر گز اس كی بات پر اعتماد نہیں كيا جا سكتا ۔
مالك كہتے ہیں حديث كی جمع آوری میں ابن جريح كی مثال اس شخص كے مانند ہے جو اندھيری رات میں لكڑياں جمع كر رہا ہو (لازمی طور پر سانپ بچھو كے ڈسنے كا خطرہ ہے )
احمد بن حنبل كے بیٹے احمد سے اور وہ ايوب سے نقل كرتے ہیں كہ وہ اسے ”ابو زبير “ كو ضعيف گردانتے تھے ۔
شعبہ سے منقول ہيكہ وہ تو نماز بھی اچھی طرح نہیں جانتا تھا ، شعبہ سے ايك دفعہ پوچھا گياكہ ابو زبير
سے حديث نقل كرنا كيوں چھوڑ دی ہے ؟ انھوں نے جواب ديا كہ جب میں نے ديكھا كہ وہ بد كردار ہے تو اس سے حديث نقل كرنا ترك كر ديا (۱۱)
اب صاحبان عقل و علم خود فيصلہ كریں كہ سرور انبياء كو ناراض كر كے اور ضعيف روايات كا سہارا لے كر حرمت قبور اہل بيت (ع) پر شرك و بدعت كے فتوے صادر كرنا اور مزار اہل بيت كو منہدم كرنا كيا یہی تقر ب پروردگار كا وسيلہ ہے ؟
جنت البقيع كو منہدم كرنے والے ذيل كی حديث كی روشنی میںاپنے كردار كو ديكھیں كہ كہیں وہ تو اسكے مصداق نہیں ہیں
صحيح بخاری سے منقول ہيكہ ”نبی اكرم نے فرمايا :مدينہ حرم ہے فلاں مقام سے فلاں مقام تك ، اس حد میں نہ كوئی درخت كاٹا جائے نہ كوئی جنايت كی جائے اور جس نے جنايت كی اس پر اللہ تعالی ٰ ، تمام ملائكہ اور انسانوں كی لعنت ہے (۱۲)
اور اس حديث كی وضاحت مولانا عبدالشكور صاحب اس طرح كرتے ہیں ”۔۔۔اس كے درخت نہ كاٹے جائیں اور نہ اس میں كوئی نئی بات (ظلم و معصيت )كی جائے “(۱۳)
آداب زيارت میں مدينہ كی فضيلت بيان كرتے ہوئے صاحب ”در مختار “تاريخ مدينہ كے حوالے سے بقيع اور بقيع میں مدفون افراد كی فضيلت كے سلسلے میں اس طرح لكھتے ہیں :حضرت محمد كی زيارت كے بعد اس قبرستان كی زيارت مستحب ہے جس كو بقيع الغر قد كہتے ہیں حديث سے ثابت ہوتا ہيكہ اس مقبرہ سے ستر ہزار بصورت قمر ليلة القدر اٹھينگے اور جنت میں بلا حساب داخل ہوں گے ۔
اب ذرا غور و فكر كا مقام یہ ہے كہ جنت البقيع مدينہ منورہ میں ہے اور جنت البقيع میں آل رسول كے مزار ہیں تو كيا ان كو منہدم كرنا تقرب الھی كا ذريعہ ہے ؟اگر ايسا نہیں ہے تو كيا قبرستان جنت البقيع كو منہدم كرنا ظلم و معصيت نہیں ؟يقينا یہ ظلم و معصيت ہے ۔
مندرجہ بالا احاديث كی روشنی میں بقيع كو منہدم كرنے والوں كو غور و فكر كرنا چاہئے كہ ہم اس فعل كے ذريعے خدا كے حبيب كا دل دكھا رہے ہیں او ر دل دكھانے والوں كے لئے خدا وند عالم قرآن مجيد میں اس طرح
فرما رہا ہے :
ان الذين يو ٴ ذون اللہ و رسولہ لعنھم اللہ فی الدنيا والآخرة و اعد لھم عذابا مھينا (يقينا جو لوگ خدا
اور اس كے رسول كو ستاتے ہیں ان پر دنيا اور آخرت میں خدا كی لعنت ہے اور خدا نے ان كے لئے رسوا كن عذاب مہيا كر ركھا ہے (۱۴)
در مختار كی عبارت سے ثابت ہوتا ہے كہ قمر ليلةالبدر وہ افراد ہیں جو جنت میں بغير حساب كے داخل ہونگے تو ان میں كچھ افراد ايسے بھی ہونگے جو جنتيوں كے سردار ہونگے اھل جنت كے سرداروں كی نشان دہی صاحب ترمذی نے اس طرح كی كہ ”الحسن والحسين (ع)سيدا شباب اھل الجنة (۱۵)
جب جنتيوں كے چہرے قمر ليلةالبدر ہونگے تو ان سرداروں كے چہروں كی نورانيت كا كون اندازہ لگا سكتا ہے ۔
مگر افسوس ! اس كے بعد بھی مسلمانوں نے ان كی اہميت كو نہ سمجھا
یہ امر مسلم ہے كہ اہل بيت (ع) كی نا راضگی سے اللہ ناراض ہوتا ہے لھٰذا اہلبيت (ع) كی ناراضگی كے اسباب میں اہل بيت (ع) كو آزار پہونچانا اور مرنے كے بعد انكی قبروں كی بے حرمتی كرنا اور صفحہ ہستی سے ہی محو كرنے كی كوشش كرنا شامل ہے ۔
اب جس كسی نے اہل بيت (ع) كو ناراض كيا تو وہ عذاب الھی كا مستحق ہو گيا لھٰذا اہلبيت (ع) كی خوشی سے نبی اكرم اور اللہ خوش ہوگا ا س سلسلہ میں صحيح بخاری نے حضرت ابو بكر كے حوالہ سے منقول ہے كہ : نبی( كی خوشنودی )اور آپ كے اہل بيت (ع) كے ساتھ (محبت و خدمت كے ذريعے )تلاش كرو (۱۶)
جنت البقيع كو منہدم كرنے والوں سے سوال كرتے ہیں كہ كيا ضعيف روايات كا سہارا لے كر جنت البقيع كو منہدم كر دينا ،اور ان (ع)كی نشانيوں كو مٹا دينا ، یہی اہل عقل كے نزديك انصاف ہے ؟
كيا اس الم ناك واقعہ سے اللہ اور اس كا رسول خوش ہو سكتے ہیں ؟كياپيغمبر اكرم اپنی اولاد كے مزاروں كی اس طرح ظالموں كے ہاتھوں بے حرمتی ديكھ كر اپنے ان سركش اور باغی امتيوں سے راضی ہو سكتے ہیں ؟
ہر صاحب عقل یہی كہتا ہوا نظر آئيگا كہ جو رسول مدينہ كے درختوں كے كاٹنے پر راضی نہیںہے تو وہ رسول اپنی اولاد (ع) كے مزار وں كی بے حرمتی كس طرح برداشت كر سكتا ہے
اس روايت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے كہ رسول اكرم كو معلوم تھا كہ تيرہ سو سال بعد كچھ زبردست نام نہاد علماء وجود میں لائے جائیںگے جو مجھ كو قبر میں بھی سكون سے نہ رہنے دينگے اور مختلف صورتوں سے مجھ كو تكليفیں پہونچائيگے اورميری آل (ع) كی قبروں كی بے حرمتی كرينگے ۔
اسكی دليل یہ ہيكہ مرحوم صاحب خطبات محمدی ”اور ان كی طرح مختلف علماء نے اپنی كتاب میںكعب بن مالك سے مروی خطبہ نقل كيا ہے اس خطبہ كی درميانی سطر میں كچھ اپنی طرف سے اس طرح لكھا ہے ”۔۔۔تم سے پہلے امتيوں نے اپنے اپنے نبيوں كی
قبروں كو مسجدیں بنا ڈالیں (يعنی ان كی قبروں پر اور انكی قبروں كے پاس وہ كام كرنے لگے جو مسجدوںمیںخداكے سامنے كرنا چاہے مثلا سجدہ ، ركوع ، ہاتھ باندھ كر با ادب كھڑے ہونادعائیں كرنا وغيرہ ) خبردار تمھیں اس سے روكتا ہوں “(۱۷)
اگر صاحب خطبات محمدی اپنے بزرگ عالم جناب حاظ ابن حجر عسقلانی كی كتاب ”فتح الباری كا مطالعہ فرماتے تو شايد مولانا موصوف سے یہ غلطی نہ ہوتی حافظ حجر عسقلانی لكھتے ہیں كہ:جو لوگ قبروں پر تصويریں بناتے تھے ان كا مقصد یہ تھا كہ لوگ ان تصاويرسے مانوس ہوں اور انھیں ديكھ كر ان كے اعمال صالح ياد كریں اور ان كی طرح عباد ت میں كوشش كریں (۱۸)
صاحب خطبات محمد ی نے انبيا ء كے مزار كے سامنے با ادب كھڑ ے ہونے اور دعائیں كرنے كی مخالفت كی ہے
مولانا موصوف كا مزاج ركھنے والوں كو معلو م ہونا چاہئے كہ جو قومیں اپنے بزرگوں كا احترام نہیں كرتیں وہ بہت جلد عذاب الھی كا شكا ر ہو جاتی ہیں اور دعا نہ كرنے والے كو خدا وند عالم نے متكبرين میں گردانا ہے ۔
مولانا موصوف نے با ادب كھڑے ہو نے كی مخالفت كی ہے ليكن مولانا موصوف نے بزرگ عالم
جناب ملا علی قاری زيارت كرنے اور آرام سے بیٹھنے كی اجازت ديتے ہیںاور اس طرح لكھتے ہیں ۔
”جب قبر پر خيمہ كسی فائدہ كی بنا پر لگايا جائے مثلا قاری خيمہ كے نيچے بیٹھ كر قرآن مجيد پڑھے تو پھر اس كی حديث میں ممانعت نہیں ہے مشہور علماء اور مشايخ نے سلف صالحين كی قبروں پر عمارت بنانے كو جائز قرار ديا ہے تاكہ لوگ ان كی زيارت كریں اور آرام سے بیٹھےں (۱۹)صاحب خطبات محمد ی كے بزرگ عالم علامہ بدرالدين عينی حنفی صاحب ، ميت كے احترام كے بارے میں كچھ ا س طرح لكھتے ہیں : اگر ميت پر خيمہ نصب كرنے كی كوئی صحيح غرض ہو تو جائز ہے جيسے زندہ لوگوں پر دھوپ سے سایہ كرنے كی غرض سے خيمہ نصب كرنا ۔
جنت البقيع منہدم كرنے والے خوب جانتے ہیں كہ ہماری مقدس شخصيتوں كے بارے میں كيا لكھا ہے ۔
مثلا علامہ عبد الوہاب شعرافی لكھتے ہیں كہ :
ميرے شيخ علی اور بھائی افضل الدين عام لوگوں كی قبروں پر گنبد بنانے ، تابوت ركھنے اور چا دریں چڑھانے كو مكروہ قرار ديتے تھے اور كہتے تھے كہ قبروں پر گنبد اور چادریں صرف انبياء اور اكابر اولياء كی شان كے لائق ہیں ۔
علماء وہابی اور صاحب خطبات محمدی كا مزاج ركھنے والے سورہ حجرات كے تحت اور شيخ عبدالغنی نايلسی كی تحرير كو پڑ ھكر سيكھیں كہ تعظيم كس طرح ہوتی ہے ۔
اس موضوع پر كشف النور میں شيخ عبد الغنی تابلسی نے جو كچھ لكھا ہے اس كا خلاصہ یہ ہے كہ جو بدعت حسنہ شارع كے مقصود كے موافق ہو وہ سنت كہلاتی ہے لہٰذا علماء اور صلحاء كی قبروں پر گنبد بنانا اور ان كی قبروں پر چادریں اور عمامے چڑھانا جائز كام ہے جبكہ اس سے یہ مقصود ہو كہ عوام كی نگاہوں میں ان كی تعظيم پيدا كی جائے تاكہ وہ صاحب قبر كو معمولی نہ سمجھیں اسی طرح ان كی قبروں كے
پاس قنديلیں اور شمع كو روشن كرنا بھی باب تعظيم میں سے ہے كيونكہ اس میں نيك مقصد ہے اور تيل او رشمعوں كی نذر اللہ كے لئے ہوتی ہے جو ان كی قبروں پر ان كی تعظيم اور ان سے محبت كے اظہار كے لئے جلائی جاتی ہیں یہ بھی ايك جائز كام ہے اس سے منع نہیں كرنا چاہئے (۲۲)
علماء اہلسنت كے مندرجہ بالا اقوال سے یہ ثابت ہوتاہے كہ انبيا ء او ر اوليا ء خدا كے مزاروں كو آباد كرنا شرك اور بدعت نہیں ہے ۔
اہل بيت (ع) افضل الانبياء ہیںتو ضعيف روايا ت كا سہار الے كر اہل بيت (ع) كے مزاروں كو منہدم كرنا كسی طرح جائز نہیں ہے ۔
لہٰذا جنت البقيع منہدم كرنے والوں كو كم از كم اپنے بزرگ علماء كے اقوال كے تحت غور و فكر كرنا چاہئے اور اللہ كے حبيب حضرت محمد مصطفی كی تكليف كا باعث نہیں ہونا چاہئے اس لئے كہ :والذين يو ٴذ ون رسول اللہ لھم عذاب اليم (۲۳)
ہر مسلمان كو چاہئے كہ درد ناك عذاب سے بچنے كے لئے نيك اعمال انجام دے اور اہل بيت (ع) كو وسيلہ قراردے اور اللہ كی بارگاہ میں دعا كرے ۔۔۔