قرآنی معارف اور ثقافتی مركز كی تحقيقات كے انچارج نے قم میں ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كے اعزازی نامہ نگار سے بات چيت كرتے ہوۓ كہا :رواں سال میں حاصل ہونے والی معلومات كے مطابق ملك میں قرآنی تحقيقات ،حجم اور كيفيت كے اعتبار سے گذشتہ سال كی نسبت انكی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ليكن قرآن كے مختلف پہلوٶں كے بارے میں تحقيق كے اعتبار سے یہ تحقيقات بہت كم ہیں-
انہوں نے رواں سال میں نشر ہونے والے قرآنی مطالب كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا:قرانی معارف اور علوم كے بارے میں اس سال ۵۰ كتابیں ،مقالے اور تھيسز نشر ہوۓ ہیں جو گذشتہ سالوں كی نسبت كئی گنا زيادہ ہیں –
انہوں نے مزيد كہا:كہ یہ وہ كتابیں اور مقالے ہیں جو خصوصی طور پر قرآنی معارف اور علوم قرآن كے بارے میں ہیں ليكن اگر ان كتابوں اور مقالوں كو بھی اس میں شامل كيا جاۓ كہ جن كے بعض حصے قرآنی معارف پر مشتمل ہیں تو انكی تعداد تين گنا زيادہ ہو جاۓ گی-