سعودی عرب كے فرمانر رواشاہ عبداللہ نے كہا ہے كہ سعودی عرب ديگر ممالك كے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں كر رہا اور ايران كو بھی سعودی عرب كی خارجہ پاليسی پر عمل كرنا چاہیے ۔ ايك كويتی اخبار كو انٹريو میں انہوں نے كہا كہ سعودی عرب ہميشہ دوسرے ممالك كے داخلی امور میں مداخلت سے دور رہا ہے۔ان كا كہنا تھا كہ ايران كے مذاكرات كار علی لارے جانی كے دورہ سعودی عرب كے موقع پر انہیں سعودی مملكت كی خارجہ سياسی پاليسی پر عمل كرنے كی تلقين كی گئی تھی اور كہا گيا تھا كہ وہ ايرانی حكومت اور اس كے پيروكاروں تك یہ پيغام پہنچا دیں۔سعودی فرمانروا نے كہا كہ خطے میں سياسی سطح پر كاميابی اور عالمی برادری كے خليجی ممالك سے پر امن تعلقات كے لیے محتاط سياست كو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے بتايا كہ علی لارے جانی پر واضح كر ديا گيا ہے كہ سعودی عرب ايران كے خلاف كوئی متحدہ محاذ نہیں بنا رہا ہے اور نہ ہی اس طرح كی سياست كبھی سعودی مملكت كی ترجيح رہی ہے۔ان كا كہنا تھا كہ سعودی حكومت اس وقت عوام اور ملكی تجارت و اقتصادی صورتحال كو مزيد مضبوط بنانے كے لیے اقدمات اٹھا رہی ہے