ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا نے اے ايف پی كے حوالے سے نقل كيا ہے كے بوسنيا میں مسلمانوں كے خلاف ہونے اولی جھڑپوں میں جس میں ايك شخص ہلاك اور ۳۰ افراد زخمی ہوۓ تھے اور مسجد فرھاديجا كو شديد نقصان پہنچا تھا ٬حكومت بوسنيا كے تعاون سے تعمير نو كی جا رہی ہے-
بوسنيا كے وزير اعظم نے خواہش ظاہر كی كہ اس مسجد كو جلد از جلد تعمير كيا جاۓ گا تاكہ اس اسلامی ورثے كو محفوظ كيا جا سكے-
اسلامی يونين بوسنيا كے سربراہ مصطفی سريك نے كہا ہے كہ اس مسجد كی تعمير سے بوسنيا میں موجود مسلمانوں كے دونوں گرہوں كے مابين بھی اتحاد كی فضا قائم ہو جاۓ گی-
صربستان كی حكومت نے اس مسجد كی تعمير كے لیے ۴۰۰ ملين تومان دينے كا وعدہ كيا ہے-
واضح رہے كہ بوسنيا میں ۴۰ فيصد سے زيادہ مسلمان سكونت پذير ہیں-