ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا نے بی بی سی اردو سے نقل كيا ہے كہ ستر كے عشرے میں فلم ’ كانچ اور ہير‘ سے اپنا فلمی سفر شروع كرنے والے روندر جين كو قدرت نے دنيا ديكھنے كا سكھ تو نہیں ديا ليكن اس كے باوجود انہوں نے وہ سب كچھ حاصل كيا جس كو پانا كسی عام آدمی كے لۓ بھی آسان نہیں۔
چت چور، دلہن وہی جو پيا من بھائے، اكھيوں كے جھروكوں سے اور رام تيری گنگا ميلی جيسی مقبول ترين فلموں كو اپنی موسيقی سے سجانے والے اور سو سے زائد فلموں كی دھنیں بنانے والے روندر جين كو ہندی كے ساتھ بنگلہ، سنسكرت، انگريزی اور اردو زبان پر عبور حاصل ہے۔
سوال: سنا ہے آپ قرآن كی آيتوں پر كام كررہے ہیں۔ یہ كس طرح كا كام ہے اور كہاں تك پہنچا؟
جواب: ہاں۔۔۔ یہ بڑا كام میں نے شروع كيا ہے اور ہر روز شام كو میں قرآن كی آيتوں كو ترجمے كے ساتھ سنتا ہوں۔ اب تك انيس سپارے ہوچكے ہیں اور گيارہ بچے ہیں۔
س: آپ كے اس كام كا مقصد كيا ہے اور آپ اسے كس طرح انجام دے رہے ہیں؟
ج: مقصد تو بہت صاف ہے كہ جو دونوں قوموں كے درميان تناؤ ہے وہ كم ہو اور دوری ختم ہو۔ اور جہاں تك اس كام كے انجام كا سوال ہے تو میں قرآن كی آيتوں كے ترجمے كوآسان زبان كے ساتھ نظم كی شكل میں ڈھال رہا ہوں تاكہ عام آدمی اس كو آسانی سے سمجھ سكے۔
مثال كے طور پر سورہ فاتحہ میں اللہ نے خود كہا ہے كہ رب العالمين (مسلمين نہیں) ۔۔۔ گویہ كہ وہ سارے عالم كو پالنے والا ہے۔ دراصل رحمن اور رحيم اس كی صفت كا نام ہے ۔ اللہ ہے وہ، اول ہے وہ!
اسی طرح ميری یہ كوشش ہے كہ سارے ترجمہ كی بنياد پر لكھی گئی نظم كو ايك كتاب كی شكل دی جائے اور ساتھ ہی اس كا آڈيو بھی تيار كيا جائے۔ آڈيو میں پہلے قرآن قرات كے ساتھ پڑھا جائے گا اور اس كے ساتھ نظمیں ہوں گی۔
س: مذہب اور مذہی كتابیں بہت حساس ہوتی ہیں ايسے میں آپ نے قرآن كا انتخاب كيوں كيا؟
ج: یہ سچ ہے كہ مذہبی معاملات حسساس ہوتے ہیں ليكن اس سے پہلے میں نے جين مذہب پر كام كيا ہے۔ استادوں كی بندشوں پر بھی كام كررہا ہوں اور اس سب كے پيچھے ايك ہی مقصد ہے كہ آنے والی نسل كی صحيح رہبری ہو سكے۔