ادارہ احياء القرآن كا تعارف

IQNA

ادارہ احياء القرآن كا تعارف

12:09 - April 29, 2007
خبر کا کوڈ: 1540750
اس میں شك نہیں كہ قرآن كريم ايك اعجاز نما ، الہامی اور الھی كتاب ہے ، جس كی بے نظر تعليمات تمام بنی نوع انسان كے لیے حيات بخش ہے ۔
بسم اللہ الرحمن الرحيم
یہ وہ انمول موتی ہے جو غيب كے خزانے میں مكنون تھا .
یہ لسانی فصاحت و بلاغت كا بحر بيكران ہے جس كی ايك آيت كا جواب نزول قرآن كی ساعت سے آج تك عربی زبان كے ممتاز و مشہور اديب و دنشوران لسانيات نہ پيش كرسكے اور نہ كرسكیں گے ۔
قرآنی تعليمات وارشادات میں و فرمودات میں اتنا استحكام اور جامعيت پايی جاتی ہے كہ زمانہ بدلتا رہا مگر ان كے فوائد مكمل آب و تاب كے ساتھ بر قرار رہے ۔ چودہ سو سال پہلے نازل ہونے والا قرآن جس طرح اس زمانے كے عقب ماندہ انسانوں اور پچھڑے سماج كے لیے مشعل راہ تھا اور اس سے بہتر طور پر موجودہ دور كے ترقی يافتہ انسانوں اور پيشرفتہ سماج كے لیے زندگی كے ہر موڑ پر خضر راہ ہے ۔
مگر افسوس ! كہ آج كا مسلمان قرآن سے بے خبر اور اس كے معارف سے نا آگاہ ہونے كے سبب مختلف مشكلات اور پريشانيوں سے دوچار ہے ۔ آج اگر مسلمان فكری ، اخلاقی ، اقتصادی انحطاط میں گرفتار ہے تو اس كی اصلی وجہ یہی ہے كہ اس نے بے خبری كی زندگی بسر كرنا شروع كردی ہے ۔لہذا
اس چيز كے پيش نظر ’’ ادارہ احيائ القرآن ‘‘ نے مستقبل كے چراغوں ، نوجوانوں اور جوانوں كو معارف قرآن سے سيراب كرنے ،
فكری اور اخلاقی انحطاط كی ديواروں كو گرا كے وسعت فكر اور اچھے اخلاق كی صحيح پہچان عطا كركے اس پر عمل پيرا ہونے ،
ان كے دل و جان میں قرآن كريم كی نورانيت كو پيدا كر كے قرآن كی حقيقت كو درك كرنے،
اور

اسے اپنی زندگی كے ہر موڑ پر عملی شكل بخشنے كی طرف قدم بڑھايا ہے ۔
یہ ادنی كوشش فقط مھجوريت قرآن كے دور كو ختم كرنے اور محبويت و مقبوليت قرآن كی نيی شروعات كے لیے ہے ۔ اس اميد كے ساتھ كہ خداوند كی درگاہ میں مورد قبول واقع ہو۔
ہمارا تعارف:
یہ علوم و معارف قرآن كريم سے متعلق قرآنی ادارہ ہے ۔

ہمارا نصب العين:
حقيقی معارف قرآن كی تبليغ اور ترويج ،قرآنی معاشرہ كی تشكيل كی عملی جدوجہد اور قرآنی حاكميت كے لیے عملی كوشش ۔
ہمارے اھداف:
١) قرآن كريم كو جوانوں كے لیے كتاب زندگی كی حيثيت سے پيش كرنا اور ان كے درميان قرآن سے انس ، تفكر و تدبركا شوق و اشتياق پيدا كرنا۔
٢) قرآن سے متعلق ہر قسم كی مفيد معلومات فراھم كرنے كی حتی المكان سعی و كوشش ۔
٣) ملكی اور بين الاقوامی سطح پر قرآنی اداروں ، شخصيات سے روابط برقرار كرنا اور ان كے درميان مستحكم روابط كے لئے موثر اقدامات كرنا۔
٤) عصر حاضر كو ملحوظ خاطر ركھتے ہوئے ، قرآن سے متعلق شبہات كا متقن جوابدھی ۔
٥) علوم و معارف قرآن كی تبليغ و ترويج كے لیے ہر ممكن اقدام اور اسكے لئے جديد ذرائع بھرپور استفادہ كرنا ۔
٦) دانشكدہ قرآن ، دار القرآن ، دار التحفيظ ، مكتب القرآن الكريم اور ديگر قرآنی سينٹرز كا اجرائ ۔

والسلام[


abumustafa2003@hotmail.com



نظرات بینندگان
captcha